خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 149

$1951 149 خطبات محمود قبول کرتے ہیں اُن کی مخالفتیں ہوتی ہیں، انہیں تکلیفیں دی جاتی ہیں۔ان تکلیفوں کی وجہ سے دو میں سے ایک بات ضرور ہوتی ہے۔یا تو وہ مخالفتوں سے گھبرا کر پھر جاتے ہیں۔اور اگر وہ اس صداقت پر قائم رہتے ہیں تو وہ مخالفتوں کی وجہ سے ایسے ہو جاتے ہیں جیسے بھٹی میں سے سونا نکالا جاتا ہے۔ایسے آدمیوں کا مثیل پیدا کرنا محنت چاہتا ہے۔جو کام آباء نے خود کیا ہوتا ہے وہ دوسرے لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔اور صاف بات ہے کہ جس چیز کی رغبت آپ ہوتی ہے اور جو استاد پڑھاتا ہے ان میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔جس آسانی سے بچے زبان سیکھتے ہیں اس آسانی سے وہ کوئی دوسری چیز نہیں سیکھ سکتے۔چنانچہ جونہی وہ ہوش سنبھالتے ہیں دوسروں کو دیکھ کر غوں غاں کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ ان کے چاروں طرف جو لوگ ہوتے ہیں وہ منہ سے بعض خاص الفاظ نکال کر ان کے خاص معنے لیتے ہیں۔اس لیے بچہ بھی شوق سے وہ الفاظ بولنے لگ جاتا ہے۔لیکن وہی بچہ جب سکول میں جاتا ہے اور کوئی دوسری زبان سیکھتا ہے تو کہتا ہے اُستاد کام بہت دیتے ہیں، وہ زچ ہو جاتا ہے اور پڑھائی سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن اگر کوئی عرب ہے تو اُس سے پوچھو کہ کیا اسے عربی سیکھنے میں کوئی مشکل پیش آئی ہے؟ یا انگریز ہے تو کیا انگریزی زبان سیکھنے میں اُسے کوئی مشکل پیش آئی ؟ اگر وہ پنجابی ہے تو کیا پنجابی سیکھنے میں اسے کوئی مشکل پیش آئی ہے؟ وہ یہی بتائے گا کہ اپنی زبان سیکھنے میں مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی بلکہ آپ ہی آپ آ گئی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اُسے اپنی زبان سیکھنے کا شوق تھا۔اسی طرح جو شخص کسی مذہب میں داخل ہوتا ہے اُس کی مثال ایک بچہ کی سی ہوتی ہے۔اور جو اس وجہ سے کسی مذہب میں داخل ہوتا ہے کہ اُس کے ماں باپ اُس مذہب کے پابند تھے اُس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی سکول میں پڑھتا ہے۔سکول میں کئی طالبعلم فیل ہو جاتے ہیں مگر کیا کبھی کسی نے کوئی ایسا بچہ بھی دیکھا ہے جو اپنی زبان سیکھنے میں فیل ہوا ہو؟ اُس کے دماغ میں نقص بھی ہوتب بھی وہ زبان سیکھ جاتا ہے۔اپنی زبان سیکھنے والے بچے سو فیصدی پاس ہو جاتے ہیں لیکن سکول اور کالج والے خوش ہوتے ہیں کہ اُن کے تینتیس فیصدی طالبعلم پاس ہو گئے۔سکول کا نتیجہ ذرا اچھارہتا ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں کہ اُن کے اسی فیصدی طالبعلم پاس ہو گئے یا اُن کا نتیجہ پچاسی فیصدی یا نوے فیصدی رہا۔اور پچرانوے پچانوے فیصدی نتیجہ ہو تو ایک شور مچ جاتا ہے۔لیکن ایک جاہل ماں کے پانچوں کے پانچوں بچے پاس ہو جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک زبان سیکھ جاتا ہے، ان میں سے ہر ایک