خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 144

$1951 144 خطبات محمود یہ آیت نازل ہوئی ہے اور وہ دن ہمارے لیے عید کا دن ہے۔2 غرض مومن ہمیشہ اس گرید میں رہتا ہے کہ کوئی برکت والا دن ہو تو وہ اُس سے فائدہ اٹھائے۔اسلام نے رسوم سے منع فرمایا ہے۔اس چیز کا مسلمانوں پر الٹا اثر پڑا ہے کہ وہ حقیقت کو نمائش سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں آتے تو فرماتے کھڑے مت ہو 3 اور عام قاعدہ یہی ہے لیکن بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ جذباتی رنگ کی ہوتی ہیں۔وہ محبت کی وجہ سے ان چیزوں کو برداشت نہیں کر سکتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں بھی بعض لوگ ایسے تھے جو جذباتی تھے۔آپ جب مسجد میں تشریف لاتے تو وہ کھڑے ہو جاتے۔آپ فرماتے بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ جاتے۔قاضی سید امیر حسین صاحب مرحوم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اکابر صحابہ میں سے تھے اور میرے استاد بھی تھے اُن کا طریق پڑھانے کا نہایت سادہ تھا لیکن بچوں پر وہ اپنا رعب رکھتے تھے۔وہ میرے عربی کے پہلے استاد تھے۔جب میں پڑھائی کا زمانہ یاد کرتا ہوں تو اُن کا پڑھایا ہوا سبق سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔قاضی امیر حسین صاحب اہلِ حدیث میں سے آئے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد یا مجلس میں تشریف لاتے اور لوگ کھڑے ہو جاتے تو وہ عتراض کرتے کہ یہ شرک ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاول مجلس میں یہ بحث ہوئی۔اُس وقت آپ خلیفہ نہیں تھے۔تو بعض دوستوں نے مشورہ دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس فتوی کے لیے عرض کیا جائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں تحریر کیا گیا کہ بعض لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ آپ کے آنے پر لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ چٹھی حضور کے پاس میں ہی لے گیا تھا۔حضرت مسیح موعود الصلوة والسلام نے تو یہ فرمایا کہ ایک ہوتا ہے حکم عام اور ایک ہوتا ہے حکم خاص۔بعض شرعی مسائل حکم عام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور کیفیات خاصہ کے ساتھ وہ بدل جاتے ہیں۔اگر کوئی شخص کسی کی تعظیم کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور وہ اسے ضروری قرار دیتا ہے تو ایسا کرنا منع ہے۔لیکن بعض لوگ جذبات محبت سے متاثر ہو کر بے خودی کے رنگ میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ طبعی طور پر ایسا کرتے ہیں اس لیے ہم انہیں منع نہیں کر سکتے۔یہ چیز فرعی ہے لیکن چونکہ یہ چیز مشابہ بہ شرک۔