خطبات محمود (جلد 32) — Page 41
خطبات محمود 41 $1951 مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عورتوں میں تقریریں شروع کیں اور متواتر کئی دن آپ تقریریں فرماتے رہے۔زیادہ تر وفات مسیح اور دوسرے اختلافی مسائل کا آپ نے اپنی تقریروں میں ذکر فرمایا تھا۔باہر سے ایک مہمان عورت آئی ہوئی تھیں جو بڑے التزام سے ان جلسوں میں شریک ہوئیں۔وہ سب سے آگے بیٹھا کرتی تھیں اور جب حضرت مسیح موعود کی علیہ السلام تقریر فرما رہے ہوتے تھے تو وہ بار بار سُبحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ کہتی چلی جاتی تھیں۔چند دنوں کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خیال آیا کہ عورتوں کا امتحان بھی لینا چاہیے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ انہوں نے میری باتیں کہاں تک سمجھی ہیں۔آپ نے اس عورت کو مخاطب کر کے فرمایا بی بی ! مجھے اتنے دن وعظ کرتے گزر گئے ہیں اور تم بڑے شوق سے ان جلسوں میں شامل بھی ہوتی رہی ہو تم بتاؤ کہ میں نے اپنی تقریروں میں کیا کہا ہے؟ اس پر وہ کہنے لگی تساں خدا اور رسول دیا گلاں ہی کیتیاں ہو نیا بین ہور کی کیا ہونا ہے۔یعنی آپ نے خدا اور رسول کی باتیں ہی کی ہوں گی اور آپ نے کیا کرنا تھا۔گویا کئی دنوں کی تقریروں کے بعد بھی اسے یہ یقین نہیں تھا کہ آپ نے خدا اور اس کے رسول کی باتیں بیان کی ہیں بلکہ وہ اس بارہ میں بھی ابھی متذبذب تھی اور بجھتی تھی کہ آپ نے غالبا اسی قسم کی باتیں بیان کی ہوں گی۔جن لوگوں کی دماغی کیفیت اس قسم کی ہو اُن کو ایک یا دو دفعہ کوئی بات بتا کر یہ تسلی نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے اس بات کو سمجھ لیا ہے۔پس لوگوں کو صرف مسائل بتانے پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان سے بار بار پوچھنا چاہیے اور سوال کرنا چاہیے کہ انہوں نے کیا سمجھا ہے۔اس بارہ میں خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ دونوں کو توجہ کرنی چاہیے۔خدام الاحمدیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے جلسوں میں نو جوانوں سے بار بار یہ مسائل پوچھیں اور دیکھیں کہ پریذیڈنٹوں یا سیکرٹریوں اور مبلغوں نے جو باتیں بتائی تھیں وہ نو جوانوں نے سیکھی ہیں یا نہیں ؟ اسی طرح لجنہ اماءاللہ کو چاہیے کہ وہ عورتوں کا امتحان لے اور اس امر کی نگرانی کرے کہ عورتوں نے ان مسائل کو کس حد تک سیکھا ہے۔اگر اس رنگ میں جماعت کی تربیت جاری رہے تو چھ ماہ یا سال میں ہی جماعت کی کافی حد تک تربیت ہوسکتی ہے۔اس کے بعد بڑے بڑے مسئلوں کی باری آ جائے گی۔دنیا میں یہی قاعدہ ہے۔جب چھوٹا بچہ ہوتا ہے تو اُسے دودھ پلایا جاتا ہے۔پھر آہستہ آہستہ جب اس میں مضبوطی آ جاتی ہے تو اسے دوسری غذا ئیں دی جاتی ہیں۔اسی طرح قومی تربیت کے لیے