خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 28

$1951 28 خطبات محمود زیادہ تعداد سندھیوں کی ہی ہونی چاہیے مگر جمع ہیں پنجابی۔یہ بات بتاتی ہے کہ یہاں کی جماعتوں نے کبھی اپنے حالات پر غور نہیں کیا۔زندہ قومیں وہ ہوتی ہیں جو ہر بات پر غور کیا کرتی ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ کافر کی علامت بیان فرمائی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانات پر سے گزر جاتا ہے اور ان پر کبھی غور نہیں کرتا۔4 مومن وہ ہوتا ہے جو ہر بات کو دیکھتا اور پھر سوچتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔مثلاً وہ کسی کو بڑی سی پگڑی باندھے دیکھتا ہے یا کسی خاص طرز پر اسے پگڑی باندھے دیکھتا ہے تو وہ غور کرتا ہے ہے کہ اس نے اتنی بڑی پگڑی کیوں باندھی ہوئی ہے یا فلاں طرز پر اس نے پگڑی کیوں باندھ رکھی ہے اور اس سے وہ کئی قسم کے نتائج اخذ کرتا ہے۔اگر غور کرنے کی عادت ڈالی جائے تو بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بڑے بڑے اہم نتائج پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً کسی ملک میں تم جاؤ اور دیکھو کہ لوگوں نے بڑی بڑی پگڑیاں باندھی ہوئی ہیں اور تم سوچو کہ یہ لوگ اتنی بڑی پگڑیاں کیوں باندھتے ہیں تو تمہیں معلوم ہوگا کہ وہاں روئی زیادہ ہے اور کپڑا زیادہ تیار ہوتا ہے۔گویا غور کرنے کے نتیجہ میں ایک نکتہ تمہیں حاصل ہو جائے گا۔اسی طرح تم ایک اور علاقہ میں جاتے ہو اور دیکھتے ہو کہ لوگوں نے چھوٹی چھوٹی دو دو گز کی پگڑیاں باندھی ہوئی ہیں اور تم سوچو کہ ان کی اتنی چھوٹی پگڑیاں کیوں ہیں تو تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ خانہ بدوش لوگ ہیں کھیتی باڑی نہیں کرتے ، نہ کپڑا بنتے ہیں۔اور چونکہ ان کے ملک میں نہ کپاس پیدا ہوتی ہے، نہ انہیں زیادہ کپڑا میسر آتا ہے اس لیے انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ہم دو دو گز کی پگڑیاں باندھیں گے تا کہ کپڑا بھی زیادہ خرچ نہ ہو اور ہمارا کام بھی چل جائے۔یہ میں نے ایک معمولی سی مثال دی ہے۔اس پر قیاس کر کے تم سمجھ سکتے ہو کہ سوچنا اور غور کرنا کتنی اہم چیز ہے۔پشاور کی طرف چلے جاؤ تو وہاں پگڑیوں سے بھی زیادہ کلاہ کا رواج ہے۔اگر تم اس پر غور کرو کہ وہاں کلاہ کا رواج کیوں زیادہ ہے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ اُس علاقہ میں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں اور گرد و غبار کم اُڑتا ہے اور سردی سخت پڑتی ہے۔اگر کلاہ پر پگڑی باندھی ہوئی ہو تو دس دس پندرہ پندرہ دن تک پگڑی چلی جاتی اور اسے بار بار باندھنا نہیں پڑتا اور کلاہ سر کو سردی سے بچاتا ہے۔لیکن اگر کلاہ نہ ہو اور علاقہ بارش والا ہو تو پگڑی جلد خراب ہو جائے گی اور اسے بار بار باندھنا پڑے گا اور سرکوسردی لگے گی۔غرض سوچنے اور غور کرنے سے انسان نئی نئی چیز میں نکال لیتا ہے۔لیکن اگر سوچنے کی عادت