خطبات محمود (جلد 32) — Page 268
$1951 268 خطبات محمود جلسہ سالانہ میں شامل ہوتے تھے۔وہ جلسہ کے مقام کے قریب جمع ہو کر باتیں کرتے رہتے تھے یا دکانوں پر بیٹھے باتیں کرتے رہتے تھے۔خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔آہستہ آہستہ جماعت کے کمزور طبقہ نے بھی اس عادت کو اختیار کر لیا اور ہر ایک نے اپنی اپنی جگہ یہ سمجھا کہ جو لوگ یہ حرکت کر رہے ہیں وہ اچھے اور مخلص لوگ ہیں حالانکہ وہ غیر احمدی تھے اور جب تک انہیں ہدایت نہیں ملتی ہمارا جلسہ سالانہ اُن کے لیے میلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے میلہ سمجھ کر یہ بات کی اور جماعت کے کمزور طبقہ نے انہیں مخلص سمجھ کر یہ بات کی۔پھر ان سے زیادہ مخلص لوگوں نے انہیں مخلص سمجھ کر یہ بات کی۔اب یہ مرض زیادہ ہو گیا ہے اور جلسہ سالانہ پر آنے والوں کا دس یا پندرہ فیصدی حصہ ایسا ہوتا ہے جو جلسہ سالانہ سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔اس کے ذمہ دار ہمارے دکاندار بھی ہیں جو چند پیسوں کی خاطر اس عظیم الشان موقع کو اپنے ہاتھ سے ضائع کر دیتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ اگر چہ مکہ میں دین کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے لیکن وہاں یہ بات تیرہ سوسال سے محفوظ چلی آئی ہے کہ نمازوں کے وقت سارے کے سارے لوگ نماز کی طرف بھاگ اوی پڑتے ہیں۔خانہ کعبہ میں تو سب لوگ نہیں آتے وہ زاویوں 1 میں آ جاتے ہیں۔یہ خوبی ان میں ایسی پائی جاتی ہے کہ اُن پر رشک آتا ہے کہ تیرہ سو سال تک انہوں نے عبادت کے مقام کی اہمیت کو نہیں بھلا یا۔جو لالچ ہمارے دُکانداروں کو ہے وہی لالچ انہیں بھی ہے، جو فائدے ہمارے دکانداروں کو حاصل ہو سکتے ہیں وہی فائدے انہیں بھی حاصل ہو سکتے ہیں لیکن جو نہی اذانیں ہوتی ہیں لوگ مسجد کی طرف بھاگے آتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ اذان سنتے ہی سارے کے سارے لوگ مسجد میں آ جاتے ہیں إِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مسجد میں نہیں آتے لیکن اکثر لوگ جو بظاہر کمزور نظر آتے ہیں اُن کی کمزوری کی بھی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔میں نے وہاں دیکھا کہ نماز کے وقت ایک دکاندار اپنی دکان کے دروازے بند کر کے اندر بیٹھا رہتا تھا۔ہم بھی چونکہ دوسرے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے اس لیے ہمیں بھی اُس وقت گریزاں ہونا پڑتا تا کہ خواہ نخواہ جھگڑے کی کوئی صورت پیدا نہ ہو جائے۔ہم ادھر اُدھر بیٹھ جاتے اور جب دوسرے لوگ نماز پڑھ لیتے ہم اپنی نماز ادا کر لیتے۔ہم نے وہ دکان دیکھی تو خیال کیا یہ اچھا موقع ہے وہاں بیٹھ کر ہم بھی یہ وقت گزار لیں۔چنانچہ ہم اُس کے پاس چلے گئے۔بظاہر وہ دیندار معلوم ہوتا تھا۔ہم نے اُس سے سوال کیا کہ