خطبات محمود (جلد 32) — Page 269
$1951 269 خطبات محمود ہم تو مجبور ہیں ہم یہاں اس لیے بیٹھے ہیں کہ یہ لوگ نماز ختم کر لیں اور ہم ان کے بعد نماز پڑھ لیں گے لیکن تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ نماز میں شریک کیوں نہیں ہوتے؟ اُس نے کہا میری بھی وہی وجہ ہے جو آپ کی ہے۔میں نام کا مبلی ہوں لیکن اصل میں وہابی۔مجھے ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے کراہت آتی ہے کیونکہ ان میں شرعی نقائص ہوتے ہیں۔چنانچہ میں دروازے بند کر کے بیٹھا رہتا ہوں۔جب یہ لوگ نماز ختم کر لیتے ہیں تو میں نماز پڑھ لیتا ہوں۔گویا جنہیں ہم کمزور خیال کرتے تھے مزید تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ اُن کی کمزوری بھی کوئی دینی وجہ تھی۔گویا اتنے تنزل کے بعد بھی اُس شہر کے لوگوں نے یہ خوبیاں اپنے اندر قائم رکھیں جو ہمارے دکانداروں کے لیے بڑی قابل شرم بات ہے۔انہیں بھی یسہ کی ضرورت ہے۔پیسہ کمانے کے مواقع اُن کے لیے بھی ہیں مگر وہ دین کے لیے قربانی کرتے ہیں۔سیدھی بات ہے کہ جسے ضرورت ہے وہ ضرور چائے پیئے گا اور جب اُس نے چائے ضرور پینی ہے تو وہ اُس وقت تک انتظار کرے گا جب تک تم نماز پڑھ کے واپس نہیں آتے۔پس یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے کہ دکانداری کی وجہ سے نماز باجماعت ادانہ کی جائے۔اس بات کے ذمہ دار جہاں دکاندار ہیں وہاں ایک حد تک اس کی ذمہ داری باہر سے آنے والوں پر بھی ہے۔اس لیے میں دونوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے مقام کو پہچانو ، ان دنوں کی اہمیت کو پہچانو ، اپنی ذمہ داریوں کو پہچا نو اور یہ دن ذکر الہی میں خرچ کرو اور لغویت سے بچو۔اور نہ صرف تم خود یہ ایام ذکر الہی میں خرچ کرو بلکہ اپنے غیر احمدی دوستوں کو بھی سمجھاؤ کہ بیشک تم ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھو، ہمارے ساتھ مل کر ذکر الہی نہ کرو لیکن نماز پڑھنا اور ذکر الہی کرنا تو تمہارے عقیدہ کے لحاظ سے بھی ضروری ہے اس لیے تم بھی ان ایام کو عبادت اور ذکر الہی میں صرف کرو۔کے خطبہ ثانیہ میں فرمایا: میں نماز کے بعد کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔اس ہفتہ میں تین چار دوست جو اپنی اپنی جگہ بہت ہی اہم احمدی تھے فوت ہوئے ہیں۔چنانچہ آج ہی خبر آئی ہے کہ گجرات میں ملک برکت علی صاحب جو پرانے احمدی تھے اور کسی زمانے میں وہاں کے امیر جماعت تھے فوت و گئے ہیں۔ملک عبدالرحمان صاحب خادم ان کے لڑکے ہیں۔ہو دوسری اطلاع یہ آئی ہے کہ مردان کے ایک احمدی خان یعقوب خاں صاحب وکیل