خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 255

$1951 255 خطبات محمود میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔اور چونکہ جماعتوں پر اس قسم کے افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے اور جب تک کسی جماعت میں نقص واقع نہ ہو اُس وقت تک اُس کے افراد میں یہ ذہنیت پیدا نہیں ہو سکتی۔اس لیے میں جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے بقایا داروں کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلائیں ، انہیں نصیحت کریں اور سمجھا ئیں۔اور یاد رکھیں کہ احمدی ہونا آسان نہیں۔جو شخص احمدی ہوتا ہے وہ یہ سمجھ کر ہوتا ہے کہ مجھے مخالفتیں بھی برداشت کرنی پڑیں گی، تکلیفیں بھی سہنی پڑیں گی اور قربانیاں بھی کرنی پڑیں گی۔پس وہ ایمان کی وجہ سے احمدیت میں داخل ہوتا ہے اور ایمان دار کو اُس کی غفلت پر متنبہ کر دینا بالکل آسان ہوتا ہے۔اگر اس میں سستی پائی جاتی ہے یا غفلت پائی جاتی ہے اور ایمان اس کے دل میں موجود ہے تو توجہ دلانے پر وہ فوراً اپنی اصلاح کرلے گا اور کام میں جو حرج واقع ہورہا ہوگا وہ دور ہو جائے گا۔اس کے بعد میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وعدے تو آ رہے ہیں اور إِنْشَاءَ اللہ آئیں گے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اب کام بڑھ رہا ہے اور وہ جو تحریک جدید کی آمد سے جائداد پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی اُس میں سے بھی سات آٹھ لاکھ روپیہا ابھی قرض باقی ہے۔دوست چونکہ بھول جاتے ہیں اس لیے انہیں بار بار بتانا پڑتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ تحریک جدید کے لیے ریز رو فنڈ قائم کرنے کی خاطر سندھ میں دس ہزا را یکر یعنی چار سو مربع زمین خریدی گئی ہے۔اس زمین کی قیمت جو ادا کی گئی ہے وہ مختلف زمانوں میں مختلف ہوتی رہی ہے۔چونکہ ہم یکدم قیمت نہیں دے سکتے تھے اس لیے ہمیں تاخیری قیمت دینی پڑی تھی جو اصل قیمت سے زیادہ تھی۔جیسے مشینوں کی فروخت کے متعلق دستور ہوتا ہے کہ اگر نقد قیمت ادا کی جائے تو مثلاً سور و پیہ دینا پڑتا ہے اور اگر قسطوں میں ادا کی جائے تو سوا سو دینا پڑتا ہے۔ہم نے بھی اس زمین کی قسط وار قیمت ادا کی ہے۔بعض جگہ سوا دو سو روپیہ فی ایکڑ ، بعض جگہ اڑھائی سو روپیہ فی ایکڑ ، بعض جگہ تین سو روپیہ فی ایکڑ اور بعض جگہ تین سو ساٹھ روپیہ فی ایکڑ۔اس طرح ہماری اوسط قیمت فی ایکڑ اڑھائی سو روپیہ کے قریب پڑی ہے اور یہ سارا سودا چھپیس لاکھ روپیہ کا ہے۔بلکہ ہمارا اندازہ یہ ہے کہ میں لاکھ کے قریب کا یہ سودا ہے لیکن چندوں کے ذریعہ اس کی جو رقم ادا ہوئی ہے وہ کوئی دس بارہ لاکھ کے قریب ہے اور آٹھ لاکھ کے قریب قرضہ لے کر ادا کی گئی ہے جس میں خلافت جو بلی فنڈ کا بھی روپیہ ہے۔اُس وقت یہ سمجھ کر کہ یہ کام