خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 246

$1951 246 خطبات محمود قربانی کا موقع نہیں ملا۔اس انتظار میں ہیں کہ کوئی موقع آئے تو وہ قربانی کریں وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا۔وقت آنے سے پہلے کسی کا یہ کہنا کہ اگر وقت آیا تو میں یہ کروں گا وہ کروں گا۔کہنے والے کی کمزوری کی علامت ہوتی ہے اسے فخر و تعلی کہتے ہیں۔یعنی پہلے تو یہ کہنا کہ وقت آئے گا تو میں یہ کروں گالیکن وقت آنے پر بھاگ جانا۔پس گو بظاہر یہ کمزوری ہوتی ہے کہ یہ کہا جائے کہ ہمیں بھی موقع ملے تو تمہیں قربانی کر کے دکھا ئیں۔یہ الفاظ بالعموم وہی کہتا ہے جو کمزور ہوتا ہے اور وقت آنے پر اپنے عہد کو نبھا نہیں سکتا لیکن وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا۔یہ لوگ تھے جنہوں نے فخر کیا اور پھر اسے پورا کر دیا۔اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔یہی وہ آیت ہے جو جنگ بدر اور جنگ اُحد کو ملاتی ہے۔جس طرح دو گاڑیوں کے درمیان ایک زنجیر ہوتی ہے جو انہیں آپس میں ملاتی ہے۔اسی طرح یہ آیت ایک زنجیر ہے جو جنگ اُحد می اور جنگ بدر کو آپس میں ملا دیتی ہے۔جنگ بدر کے لیے جب آپ نکلے تو چونکہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت آپ نے یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ کفار مکہ کے ساتھ ضرور لڑائی ہونے والی ہے بلکہ صرف اتنا کہا کہ شاید شام سے آنے والے تجارتی قافلہ کے ساتھ مقابلہ ہو جائے۔اس لیے کچھ لوگ تو آپ کے ساتھ چل پڑے لیکن باقی لوگ مدینہ میں ہی رہے۔وہ سمجھتے تھے کہ شام سے آنے والے قافلہ کے ساتھ لڑائی ہونی ہے اور اس کے لیے تھوڑے سے آدمیوں کی ہی ضرورت ہو گی لیکن جنگ مکہ سے ابو جہل کی قیادت میں آنے والے لشکر سے ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی۔کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ عرب کے بااثر اور رعب رکھنے والے لوگ اور پھر ایک تجربہ کارلشکر مسلمانوں سے شکست کھا جائے گالیکن لڑائی ہوئی اور اس میں بڑے بڑے دشمن مارے گئے۔دشمن شکست کھا کر واپس لوٹا اور مسلمان مال غنیمت لے کر مدینہ واپس آئے۔جو لوگ اس جنگ میں شریک ہوئے تھے اُن کے اندر بڑائی کا احساس پایا جاتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے انہیں ثواب کا موقع دیا۔وہ جہاں بیٹھتے تھے کہتے تھے ہم نے یوں کیا ، ہم نے ؤوں کیا، کوئی کہتا تھا میں نے عتبہ پر یوں حملہ کیا تھا اور کوئی کہتا تھا میں نے شیبہ پر یوں ہلہ بولا تھا۔دوسرے مسلمان کہتے تھے تمہیں بیشک ثواب کا موقع ملا ہے لیکن افسوس کہ ہمیں پہلے پتا نہ تھا ور نہ ہم بھی اس موقع پر پیچھے نہ رہتے۔