خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 247

خطبات محمود 247 $1951 جب مدینہ میں اس قسم کی باتیں ہوتیں تو اُس وقت ایک انصاری جوش سے کھڑے ہو جاتے اور کہتے بس بس تم نے کیا کیا ؟ اگر ہمیں موقع ملا تو ہم دکھائیں گے کہ کس طرح ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں جان کی قربانی پیش کرتے ہیں۔10 یہ ایک کھیل سا بن گیا تھا کہ جوں ہی کوئی بدری صحابی فخر کرتے تو وہ کہہ دیتے بس بس تم نے کیا کیا ہے؟ ہمیں موقع ملا تو تمہیں قربانی کر کے دکھا ئیں گے۔جب اُحد کی جنگ ہوئی اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی تو یہ صحابی پیچھے آگئے۔انہوں نے کھایا کچھ نہیں تھا۔غریب آدمی تھے دس بارہ کھجوریں پاس تھیں وہ ٹہلتے جاتے تھے کہ اتنے میں وہ واقعہ پیش آ گیا کہ جس نے فاتح لشکر کو شکست خوردہ بنا دیا۔اُحد کے پہاڑ کے ایک درہ میں جو صحابی بٹھائے گئے تھے اور جنہیں حکم تھا کہ خواہ کچھ ہو وہ وہاں سے نہ ہٹیں انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف وہ جگہ چھوڑ دی۔وہ یہ سمجھ کر کہ کفار کو شکست ہو گئی ہے ہم یہیں بیٹھے رہے ہیں اور جہاد میں حصہ نہیں لیا درہ چھوڑ کر نیچے آگئے۔جب کفار کا لشکر بھاگا جارہا تھا تو خالد بن ولید جو اُس وقت ابھی کافر تھے اُن کی نظر اس درہ پر پڑی اور انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کرنے کا یہ بہترین موقع ہے درہ خالی ہے۔چنانچہ انہوں نے عمرو بن العاص کو ساتھ ملایا اور کہا یہ موقع ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔چنانچہ انہوں نے اس درہ میں سے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جو مال غنیمت اکٹھا کر رہے تھے یکدم انہوں نے دیکھا کہ اُن کے درمیان دشمن کی فوج آگئی ہے مسلمانوں کی تعداد ایک ہزار تھی اور دشمن تین ہزار کی تعداد میں تھا۔پھر مسلمان بکھرے ہوئے تھے اور وہ اکٹھے اور تازہ دم ہو کر آئے تھے۔اس لیے یکدم حملہ کی وجہ سے مسلمانوں کے قدم اُکھڑ گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف بارہ تیرہ آدمی رہ گئے اور پھر وہ بھی زخمی ہوئے اور گر نے شروع ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس جنگ میں شدید زخم آئے اور آپ بیہوش ہو کر گر گئے۔اور جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے اُن کے جسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گر گئے اور آپ نیچے دب گئے۔11 جب آپ پر دوسرے لوگوں کے جسم گرے اور آپ نے کوئی حرکت نہ کی تو مسلمانوں نے سمجھا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔آپ کے گرد جو لوگ تھے اُن میں سے جو بچے ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے۔انہیں یہ یقین ہو گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔وہ میدان سے پیچھے ہٹے اور ایک پتھر پر بیٹھ کر رونے لگے۔پاس ہی مذکورہ بالا انصاری صحابی ٹہل رہے تھے۔انہوں نے حضرت عمرؓ کو روتے دیکھا تو آپ کے