خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 11

$1951 11 خطبات محمود کے صحابہ پر اعتراض کرتے ہو حالانکہ پہلے بھی ایسے نبی گزرے ہیں جن میں یہی باتیں پائی جاتیں تھیں۔1 پھر اگر تم ان کو سچا سمجھتے ہو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تمہیں کیوں اعتراض سوجھتا ہے۔مگر معلوم ہوتا ہے اُس زمانہ کے مولوی اِن مولویوں سے زیادہ شریف تھے کیونکہ وہ اس جواب کو سن کر ورنہیں مچاتے تھے کہ دیکھو انہوں نے نبیوں کی ہتک کر دی۔یہ اپنی صداقت کے ثبوت میں پہلے نبیوں کی مثالیں پیش کر رہے ہیں۔قرآن کریم میں صاف طور پر ذکر آتا ہے کہ مخالف یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے۔یہ تو عام انسانوں کی طرح کھاتا پیتا ہے 2 اور قرآن کریم اِس کا یہ جواب دیتا ہے کہ پہلے نبی بھی کھاتے پیتے تھے اور پہلے نبیوں کے بھی بیوی بچے تھے۔اس پر مخالفین نے یہ نہیں کہا کہ تم ہمارے نبیوں کی ہتک کرتے ہو یا تم پہلے انبیاء کے دشمن ہو بلکہ انہوں نے سمجھا کہ جب ان باتوں سے پہلے انبیاء کی نبوت کی نفی نہیں ہوتی تو اس کی نبوت کی نفی کس طرح ہو سکتی ہے۔لیکن کی تعجب ہے کہ اس وقت علماء کہلانے والے، مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے اور قرآن کریم کو پڑھنے والے اس اصول کو سمجھنے سے عاری ہیں اور جب ان کے سامنے پہلے نبیوں کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں تو وہ شور مچانے لگ جاتے ہیں کہ احمدی انبیاء کی ہتک کرتے ہیں۔یہ بات بتاتی ہے کہ ان علماء کہلانے والوں میں اب ایسے لوگ پیدا ہو چکے ہیں جو قطعی طور پر دیانت اور انصاف کو بھول چکے ہیں اور وہ اُن علماء سے بھی بدتر ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء کے مخالف تھے کیونکہ جب اُن کے سامنے قرآن کریم نے یہ دلیل پیش کی کہ دیکھو یہ یہ بات تو پہلے نبیوں میں بھی پائی جاتی تھی تو انہوں نے شور نہیں مچایا کہ مسلمان پہلے انبیاء کی بہتک کرتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے آپ کو مانا یا نہیں مانا اتنی بات تو بہر حال ثابت ہے کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ قرآن کریم نے پہلے نبیوں کی ہتک کی ہے۔آخر جب کسی کی سچائی پر بحث کی جائے گی تو اُس کے ثبوت میں کسی بچے کی ہی مثال دی جائے گی جھوٹے کی نہیں۔اور جب جھوٹ کی مثال دی جائے گی تو کسی جھوٹے کی ہی دی جائے گی بچے کی نہیں۔مثلاً اگر کوئی مخالف اپنی صداقت کے ثبوت کے طور پر یہ کہتا ہے کہ اگر ہم جھوٹے ہوتے تو ہم پر آسمان کیوں نہ گرا؟ تو ہم اس کے جواب میں اُسے جھوٹوں کی ہی مثال دیں گے اور کہیں گے کہ شدّاد جھوٹا تھا کیا اُس پر آسمان گرا ؟ نمرود جھوٹا تھا کیا اُس پر آسمان گرا؟ فرعون جھوٹا تھا کیا اس پر آسمان گرا؟ ابوجہل جھوٹا تھا کیا اُس پر آسمان گرا؟ اگر اُن پر آسمان نہیں گرا حالا نکہ تم بھی تسلیم کرتے ہو