خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 10

$1951 10 خطبات محمود کرے گا تاکہ ڈیڑھ بجے والی گاڑی سے جو دوست آئیں وہ بھی جمعہ میں شریک ہو سکیں مگر گاڑی کے ذریعہ آنے والے مہمانوں کو کھانا جمعہ کے بعد ہی کھلایا جا سکے گا۔آج بھی اس لیے دیر ہو گئی کہ تجویز یہ ہوئی تھی کہ جو دوست آئیں اُن کو کھانا پہلے کھلایا جائے۔چنانچہ ان کا انتظار کرنے اور ان کو کھانا کھلانے کے بعداب میں جمعہ کے لیے آیا ہوں۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آجکل ہماری جماعت کی مخالفت بہت زیادہ ترقی کر چکی ہے۔ایک خاصا گر وہ مولویوں کا ایسا ہے جن کا کام سوائے اس کے اب کوئی نہیں رہا کہ وہ ہماری جماعت کے خلاف لوگوں میں جوش پھیلا ئیں اور اُن کو فتنہ وفساد پر آمادہ کریں۔چنانچہ ہر دوسرے تیسرے دن کسی نہ کسی جگہ سے ان مولویوں کے جلسہ کی اطلاع آ جاتی ہے۔جس گاڑی میں میں آ رہا تھا دوستوں نے بتایا کہ اسی گاڑی میں ہی مولوی عطاء اللہ صاحب بخاری سفر کر رہے تھے جو خان پور کے کسی مخالفانہ جلسہ میں شامل ہونے کے لیے آ رہے تھے۔اور اس جلسہ کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک احمدی دوست سے وہاں کے بعض غیر احمدیوں نے باتیں شروع کر دیں۔باتیں کرتے کرتے انہوں نے کہا کہ اگر آپ لوگ سچے ہوتے تو قادیان چھوڑ کر آپ کو کیوں باہر آنا پڑتا ؟ اس سوال سے اُن کی غرض در حقیقت شرارت کرنا تھی اور وہ جماعت کے خلاف فساد پھیلانا چاہتے تھے مگر اُس احمدی دوست کا ذہن اس طرف نہیں گیا اور اُس نے اپنی سادگی میں یہ جواب دے دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو مکہ چھوڑ کر مدینہ تشریف لے گئے تھے۔اس پر انہوں نے فوراً شور مچادیا کہ دیکھو! یہ احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔ہم اسے ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔یہ لوگ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ ان کو زندہ رہنے دیا جائے۔ان کو مار دینا چاہیے، ان کو جی قتل کر دینا چاہیے اور ان کی جماعت کو مٹا دینا چاہیے۔غرض اسی بات پر انہوں نے شورش برپا کر دی اور آخر جماعت کے خلاف ایک بڑا جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا اور بڑے بڑے علماء کو بلوایا۔مولوی عطاء اللہ صاحب اسی جلسہ کے لیے خان پور جارہے تھے۔حالانکہ کسی شخص کو جھوٹا کہنا اور اس کے ثبوت میں ایک ایسی بات پیش کرنا جو بچوں کے ساتھ ہوتی چلی آئی ہے یہ اعتراض کرنے والوں کو خود جھوٹا ثابت کرتی ہے نہ کہ اس شخص کو جس پر اعتراض کیا جارہا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ دیکھو! تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آر