خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 176

$1951 176 خطبات محمود اس طرح تو کوئی بھی پاکستانی نہیں۔انگلستان کے ملک میں بھی جرمن اور فرانسیسی موجود ہیں اور وہ اسی ملک کے باشندے کہلاتے ہیں۔انگلستان کے بادشاہ کا خاندان بھی جرمن ہے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ انگلستان کا رہنے والا نہیں کیونکہ جو کسی ملک میں آبستا ہے وہ اُسی ملک کا باشندہ کہلا تا ہے۔پس گو خان لیاقت علی خان کے قاتل کے تعلقات پر شبہ کیا جارہا ہے کہ افغانستان نے اُن کے قتل پر اکسایا تھا لیکن چونکہ قاتل پاکستان میں آبسا تھا اور پارٹیشن سے پہلے کا یہاں رہتا تھا اس لیے وہ پاکستانی تھا اور اس کے یہ معنی ہیں کہ بعض پاکستانیوں کو نظام حکومت پر اعتبار نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک فرد ک فعل تھا اور ایک فرد کا فعل ساری قوم کا فعل نہیں کہلا سکتا لیکن اس میں بھی کوئی محبہ نہیں کہ ایک فرد کے فعل سے ساری قوم ذلیل ہو جاتی ہے۔ہمارے ہاں ایک ضرب المثل ہے کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔اس لیے بیشک وہ ایک فرد کا کام تھا اور اس کی ساری قوم ذمہ دار نہیں ہو سکتی لیکن اُس کی وجہ سے ساری قوم ذلیل ہو گئی ہے۔پس جہاں تک خدا تعالیٰ کے سامنے ذمہ داری کا سوال ہے یہ ایک فرد کا کام ہے لیکن جہاں تک شہرت کا سوال ہے اس سے قوم ذلیل ہوگئی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ قوم میں ذلت ،عزت اور زندگی کا کوئی احساس نہیں اور یہ کتنی ذلت کی بات ہے۔یوں سمجھ لو کہ اگر کسی خاندان میں سے کوئی لڑکا یا لڑ کی بدکار ہو جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری خدا تعالیٰ کے سامنے اُس لڑکی یا لڑکے کے ماں باپ اور بہن بھائیوں پر عائد نہیں ہوگی۔خدا تعالیٰ کے سامنے وہی لڑکی یا لڑ کا مجرم ہو گا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص اُس خاندان کی لڑکی لینے پر تیار نہیں ہوتا اور نہ کوئی اُس خاندان کے کسی لڑکے کو اپنی لڑکی دینے پر رضامند ہوتا ہے حالانکہ اس میں خاندان کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔وہ اس سے اتنا ہی متنفر ہوتا ہے جتنے دوسرے لوگ اس کی سے متنفر ہوتے ہیں لیکن بوجہ ایک لڑکی یا لڑکے کی بدکاری کے وہ خاندان دنیا کی نظروں میں ذلیل ہو جاتا ہے۔پس جہاں تک خدا تعالیٰ کے سامنے ذمہ داری اور سزا پانے کا سوال ہے خان لیاقت علی خان کا قاتل خود ذمہ دار ہے قوم ذمہ دار نہیں۔لیکن جہاں تک عزت اور شہرت کا سوال ہے اس سے لوگوں میں بدلنی پیدا ہوگئی ہے کہ اس قوم کو نظامِ حکومت سے پیار نہیں۔اور جب دشمن کو اس چیز کا پتا لگ جائے گا کہ رعایا نظام حکومت سے پیار نہیں رکھتی تو وہ کتنا دلیر ہو جائے گا۔غرض قومی لحاظ سے یہ واقعہ جو خاں لیاقت علی خان کے ساتھ گزرا نہایت خطرناک