خطبات محمود (جلد 32) — Page 165
خطبات محمود 165 $1951 کہ ان کا علم اصلی نہیں۔اصلی علم ایک ہی ہستی کو حاصل ہے اور وہ خدا تعالیٰ ہے۔بعض بیوقوف ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ پر بھی اس قسم کے اعتراضات شروع کر دیتے ہیں کہ وہ کیوں ہے؟ کیا ہے؟ کدھر سے ہے؟ کدھر کو ہے؟ لیکن جو انسان اپنی ذات کے متعلق نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ وہ اُس ہستی کے متعلق کیا جانے جس کے ہاتھ میں سب علوم ہیں۔انسان خود نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے اور کیوں ہے؟ مرد عورت سے ملتا ہے اور اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے لیکن بعض اوقات عورت اور مرد ہیں میں دفعہ آپس میں ملتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بچہ پیدا نہیں ہوتا۔پھر ایک خاص وقت میں وہ کیوں پیدا ہو جاتا ہے؟ اسی طرح مرد و عورت کے اعضاء کے متعلق سوال کیا جائے تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔انسان مجبور ہو جاتا ہے اور کہتا ہے مجھے اسی حد تک معلوم ہے۔غرض جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ فلاں چیز کیا ہے؟ کس طرح ہے؟ کیوں ہے؟ کدھر سے ہے؟ کدھر کو ہے؟ اُس وقت تک اس کی حقیقت معلوم نہیں ہو سکتی۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں سچے علم کے یہی معنے ہیں کہ وہ انسان پر اس کی حقیقت اور جہالت کو واضح کر دے۔سچا علم انسان کو بتا دیتا ہے کہ اُس سے بالا ایک اور علیم و حکیم ہستی ہے اور وہ اُس کی مدد کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتا۔جو علم یہ چیز بتا دیتا ہے وہ سچا ہے۔لیکن جو شخص یہ نہیں جانتا کہ اُس سے بالا کوئی اور علیم اور حکیم ہستی ہے اور پھر وہ کہتا ہے میں فلاں چیز کی حقیقت کو پہنچ گیا ہوں وہ جھوٹا ہے۔یہی پہچان ہے عالم اور غیر عالم کی۔جب ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ اُس سے بالا ایک اور ہستی بھی ہے خواہ یہ سمجھ عارضی طور پر ہو یا مستقل طور پر ، اُسے منبع کا پتا چل جاتا ہے اور وہ اس سے فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔کنویں کا سارا پانی کوئی نہیں نکال سکتا لیکن اگر کسی کو ایک گلاس پانی بھی مل جائے تو اُس کی پیاس بجھ جاتی ہے۔اسی طرح انسان سارے راز ہائے کائنات کو نہیں پہنچ سکتا لیکن اگر اُسے ایک قطرہ بھی اس سمندر سے مل جائے تو بڑے فائدہ کی چیز ہے بجائے اس کے کہ وہ ایسی حالت میں ہو جو ڈ بڑھا1 اور شک میں ڈال دیتی ہے۔غیر مطبوعہ مواد از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) 1 : ديدها: تذبذب۔شک۔پس و پیش۔گھبراہٹ۔وہم۔وسوسہ ( فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)