خطبات محمود (جلد 32) — Page 164
$1951 164 خطبات محمود کہ یہ بات اب تک معلوم نہیں ہوئی اور نہ قریب میں اس کے معلوم ہونے کا امکان ہے کہ بعض اعداد ی میں کیوں طاقت پائی جاتی ہے اور بعض میں کیوں طاقت نہیں پائی جاتی۔میں نے کہا جب تک تم یہ معلوم نہ کر لو تمہیں راز ہائے کائنات کس طرح معلوم ہو سکتے ہیں۔یہ ساری چیزیں بتاتی ہیں کہ انسان کو آخر کار خدا تعالیٰ کی طرف جانا پڑتا ہے اور وہ اس کی برتری کو تسلیم کرتا ہے۔میں نے سوچا کہ انسان کی مثال اُس گھوڑے کی سی ہے جس کو سو، دوسوگز رستی کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔وہ اٹھتا ہے اور چرنا شروع کر دیتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں آزاد ہوں اور وہ بدک کر یاد بگ کر یا کسی اپنے خیال کے ماتحت دوڑ نے لگتا ہے اور سو، ڈیڑھ سوگز تک پہنچ کر جس قدر لمبی وہ رستی ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ بندھا ہوا ہے اُس کے گلے میں پھندا پڑنا شروع ہو جاتا ہے اس لیے وہ واپس آجاتا ہے اور اتنا ڈر جاتا ہے کہ کیلے کے ساتھ ہی بیٹھ جاتا ہے۔تھوڑی دیر کی کے بعد وہ پھر بھول جاتا ہے اور چلنے پھرنے لگتا ہے۔اُسے یہ خیال آتا ہے کہ میں آزاد ہوں اس لیے وہ پھر دوڑنے لگتا ہے۔لیکن کچھ فاصلہ پر جا کر اُس کے گلے میں پھندا پڑنا شروع ہوتا ہے اور وہ واپس آ کر رکیلے کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔یہی حال کا ئنات عالم کا ہے۔انسان سمجھتا ہے کہ اُس نے بڑے بڑے علوم حاصل کر لیے ہیں لیکن وہ اظلال علوم ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ علم اس چیز کا نام ہے کہ کسی چیز کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ کیا ہے، کیوں ہے اور کہاں ہے؟ اور یہ علم صرف خدا تعالیٰ کو ہی ہے۔جب کسی انسان سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ یہ چیز کیوں ہے، کہاں ہے، کس طرح ہے؟ تو بسا اوقات وہ لڑ پڑتا ہے اور اُسے غصہ آ جاتا ہے۔بچے ماؤں پر سوال کرتے ہیں۔بچہ اپنی ماں سے پوچھتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ وہ کہتی ہے یہ گھوڑا ہے۔وہ کہتا ہے گھوڑا کیا ت ہوتا ہے؟ ماں کہتی ہے ایک جانور ہے۔وہ پھر پوچھتا ہے جانور کیا ہوتا ہے؟ ماں کہتی ہے جانو ر وہ ہوتا ہے ا ہے جو چلتا پھرتا ہو۔بچہ پھر سوال کرتا ہے وہ کیوں چلتا پھرتا ہے؟ تو وہ اُس کے منہ پر تھپڑ مارتی ہے اور کہتی ہے چُپ کر ! تو نے تو میرے کان کھا لیے ہیں۔ماں بچے کو اس کی بیوقوفی پر تھپڑ نہیں مارتی بلکہ وہ کی اپنی جہالت کی وجہ سے اُسے تھپڑ مارتی ہے۔یہی حال محققین کا ہے، یہی حال پروفیسروں اور بڑے بڑے سائنس دانوں کا ہے۔جب ان پر کوئی شخص سوال کرتا ہے کہ فلاں چیز کیوں ہے؟ کیا ہے؟ کدھر سے ہے؟ کدھر کو ہے؟ تو تھوڑے سے جواب کے بعد ان کا علم ختم ہو جاتا ہے اور یہ چیز واضح ہو جاتی۔