خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 159

$1951 159 خطبات محمود نا کام کیا۔بہر حال یہ خدائی فعل ہے اور اس کا نتیجہ نظر آتا ہے۔میں جب دہلی گیا تو اچھے اچھے ہندو جن کے متعلق میں یہ امید نہیں کرتا تھا کہ وہ اس قدر متعصب ہوں گے انہوں نے بھی تعصب سے کام لیا۔ایک ہندو لیڈر کے پاس جن کا میں نام لینا نہیں چاہتا میں نے بعض ہندو بھجوائے اور انہیں کہا اُسے سمجھاؤ۔جب وہ واپس آئے تو میں نے پوچھا اُس نے کیا کہا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جب ہم نے اُس سے بات کی تو اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔س سے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اگر ہندو مسلمانوں سے مل بھی گئے اور انہوں نے صلح کر لی تب بھی کوئی فائدہ نہیں۔اب دیکھ لو جو کچھ ہورہا ہے اسے دیکھ کر انسان حیران ہو جاتا ہے کہ اس سے زیادہ صلح کس طرح کی جائے؟ حقیقت یہی ہے کہ جیسا کہ رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے ہندوؤں نے سینکڑوں مسلمانوں کو بالجبر ہندو بنالیا ہے۔اس سے اسلام کوکوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن اس سے یہ پتا لگتا ہے کہ اگر مسلمان اس دھوکا میں رہتے کہ ہندوؤں کو کچھ دے دلا کر راضی کر لیا جائے تو یہ نہایت خطر ناک خیال تھا۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور مسلمانوں کو وقت پر یہ سمجھ آگئی کہ اگر وہ ہندوستان میں شامل رہے تو ان کا محفوظ رہنا مشکل ہے۔پاکستان بننے سے مسلمان کچھ بچا ہے۔میں ” کچھ بچا ہے اس لیے کہتا ہوں کہ بہت سے مسلمان ہندوستان میں ابھی بسے ہوئے ہیں۔ہندو منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم پاکستان سے جنگ کرنا نہیں چاہتے لیکن ان کے اخبارات میں بعض نظمیں میں نے پڑھی ہیں کہ ہم نے کوئٹہ تک جانا ہے۔دشمن بیشک کچھ کہے لیکن ان کے اخبارات سے جو کچھ پتا لگا ہے اور انگریزی اخباروں سے بھی اس بات کا پتا لگتا ہے کہ امرتسر کے ہزاروں ہزار ہندو بھاگ گئے ہیں۔بیشک یہ افراد کی حرکتیں ہیں لیکن ہمیں نظر آتا ہے کہ اگر مسلمانوں نے بے غیرتی کو چھوڑ دیا اور تفرقہ بازی سے کام نہ لیا جیسا کہ احراری اور دوسرے بعض مسلمان کر رہے ہیں اور اگر مسلم لیگ نے ان کو سر پر نہ چڑھائے رکھا تو جس خدا نے ان کو پہلے مدد دی تھی وہ اب بھی انہیں نہیں چھوڑے گا۔اگر انہوں نے ملک میں کوئی نی فتنہ کھڑا نہ کیا تو خدا تعالیٰ یقیناً اس ملک کی مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے مدد کی۔پہلی مدد کیسی زبر دست تھی کہ کام کرنے والے لوگ ہندوستان چلے گئے ، سارا سامان اور مال و دولت ہندوستان کے حصہ میں آ گئی۔پاکستان کی فوجیں جو اس کے حصہ میں آئیں وہ ہزاروں میل ملک سے دور بیٹھی تھیں، خزانے خالی تھے اور مہاجرین کا سیلاب امڈا ہوا پاکستان کی طرف آرہا تھا۔اس قسم کی کوئی مثال نہیں ملتی