خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 111

$1951 111 خطبات محمود پڑی ہوئی ہو اور دشمن تمہارے سر پر ہو تو کیا اس تلوار کی موجودگی تمہیں کچھ فائدہ پہنچاسکتی ہے؟ اگر تم نے دشمن کا مقابلہ کرنا ہے تو پھر تلوار کا چلانا بھی تمہیں سیکھنا پڑے گا اور تلوار کو اپنے ہاتھ میں بھی رکھنا پڑے گا۔اسی طرح دعاؤں پر ایمان رکھنے والے کو میں یہ کہوں گا کہ بیشک دعا ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے اور نہایت اہم ہتھیار ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تم نے کبھی دعا کی؟ اگر نہیں کی تو وہ آپ ہی آپ تمہیں کس طرح فائدہ پہنچا دے گی؟ یہ تو ویسی ہی حماقت کی بات ہے جیسے پیر منظور محمد صاحب سنایا کرتے تھے کہ بچپن میں ایک ہم شکار کے لیے گئے۔ہمارے ساتھ ایک بنیا بھی چل پڑا۔چند چھوٹے چھوٹے لڑکے اور بھی تھے۔ہم نے بندوق اپنے کندھے پر رکھی ہوئی تھی کہ اُس کا منہ اُس پیسے کی طرف ہو گیا اور وہ ڈر کر ہائے ہائے کہہ اُٹھا۔ہم نے اُسے بتایا کہ ابھی ہم نے اس میں کارتوس نہیں بھرے اور اگر بھرے ہوئے ہوتے تب بھی وہ آپ ہی نہیں چل پڑتے انہیں چلانے کے لیے دباؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔اس پر وہ کہنے لگا یہ درست ہو گا مگر انگریز کی بنائی ہوئی چیز کا پھر بھی اعتبار نہیں۔تم بھی اُس پیسے کی طرح کہتے ہو کہ دعا آپ ہی آپ چل جایا کرتی ہے۔حالانکہ دعا چلانے سے چلا کرتی ہے یونہی نہیں۔جو شخص دعا کرتا ہے اُسے دعا بہت بڑا فائدہ پہنچاتی ہے۔اور جو دعا نہیں کرتا اُس کے لیے وہ ایک لغو اور بریکار چیز ہوتی ہے بلکہ اس تلوار سے بھی بدتر ہوتی ہے جو گھر میں رکھی ہوئی ہو کیونکہ وہ شخص جس نے تلوار اپنے گھر میں رکھ لی اور اُسے چلایا نہیں اُس کو تو لوگ صرف ملامت کرتے ہیں۔لیکن وہ شخص جود عا پر ایمان رکھتا اور پھر اُس سے کام نہیں لیتا اُس پر لوگ لعنت کرتے ہیں۔غیر مطبوعہ مواد از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) 1 : تقشر چھل جانا، چھلکا علیحدہ ہونا ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 5 صفحہ 385 کراچی) تَقَشَّرَ (قِشْرَةُ): چھال، خول، چھلکا (فیروز اللغات عربی اردو فیروز سنز لاہور ) 2 : الفاتحة : 7 3 : حزقی ایل باب 39 آیت 1 4 : حزقی ایل باب 38 آیت 19