خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 100

$1951 100 خطبات محمود نہیں کہ یہ کہہ سکے کہ ہر جگہ ایک نئی غرض کے لیے ہر واقعہ بتایا گیا ہے وہ ظاہر پر نظر کر کے کہتا ہے اس کی میں تکرار پائی جاتی ہے۔لیکن جو شخص قرآن کریم کو اس خیال سے پڑھتا ہے کہ یہ کتاب اُس کی اصلاح اور اُس کے اندر خاص جذبات پیدا کرنے کے لیے آئی ہے (خواہ وہ ان باریکیوں کا عارف نہ ہو) وہ اسے بالکل اور نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔وہ قرآن کریم کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے جس نقطہ نگاہ سے بچہ ماں کو دیکھتا ہے اور اس کی پیاری باتوں کو سنتا ہے۔خالی عقل سے دیکھنے والا جب ماں کو دو چار دفعہ دیکھتا ہے ہے اور اُسے جانی جانی کہتے سنتا ہے تو وہ تنگ آ جاتا ہے۔لیکن بچہ کو جب ماں دس ہمیں دفعہ اپنے ساتھ چمٹا کر چھوڑ دیتی ہے تو اُس کا پھول سا چہرہ مرجھا جاتا ہے۔وہ سہا سہا پھرتا ہے کہ اُس کی ماں اُس سے کیوں خفا ہوگئی ہے۔غرض وہی چیز جو ایک شخص کو تنگ کرنے کا موجب ہے دوسرے کے لیے وہ ایسی ہے جیسے باغ کے لیے پانی۔ماں جب اپنے بچہ کو جانی جانی کہتی ہے تو وہ اُکتا نہیں جاتا۔جب ماں جانی جانی کہتی ہے تو بچہ کا دل بڑھتا ہے، اس کے قومی مضبوط ہوتے ہیں، اُس کا حوصلہ بڑھتا ہے اور اُس کے اعصاب مضبوط ہو جاتے ہیں حالانکہ یہی چیز ایک منطقی اور عقلی طور پر دیکھنے والے کو شاق گزرتی ہے۔گویا جو چیز ایک شخص کے لیے بکواس ہے وہی دوسرے کے لیے پانی اور خون ہے۔جو شخص قرآن کریم کو اس خیال سے پڑھتا ہے کہ وہ اُس کے اندر نئے جذبات پیدا کرتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ روحانی باپ ہے، روحانی ماں ہے جو اپنے بچہ کے ساتھ گہرے تعلقات کا اظہار کر رہا ہے وہ اس بات پر گھبرائے گا نہیں کہ قرآن کریم حضرت ابراہیم ، حضرت موسی ، حضرت عیسی علیهم السلام اور دیگر نبیوں کا بار بار ذکر کیوں کرتا ہے بلکہ وہ کہے گا کہ اگر وہ ان کا بہیں دفعہ اور ذکر کر دیتا تو بہتر ہوتا۔ماں بچہ کو بار بار چومتی اور جانی جانی کہتی ہے۔ایک منطقی یہ کہے گا کہ وہ کیوں ایسا کرتی ہے؟ لیکن بچہ ماں کے چھوڑ دینے پر سہما سہا پھرے گا کہ شاید اُس کی ماں اُس پر ناراض ہو گئی ہے۔دونوں کے نقطہ نگاہ کا فرق ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت اسحاق ، حضرت اسماعیل، حضرت یعقوب، حضر، یوسف، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیھم السلام اور دیگر نبیوں کا بار بار ذکر کرتا ہے تو وہ اپنے اس تعلق کو جوا سے اپنے بندوں سے ہے ظاہر کرنے کے لیے ایسا کرتا ہے۔پھر اس میں ہمیں سبق دیا گیا ہے کہ کسی کے ساتھ محبت کے تعلقات بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اُس کا بار بار ذکر کیا جائے۔