خطبات محمود (جلد 32) — Page 44
خطبات محمود 44 $1951 ނ وہاں بعض اوقات یہ امر لعنت کا موجب بھی بن جاتا ہے۔یہ امر برکت کا موجب اسی طرح ہوتا۔کہ ناموں کے ساتھ بعض ٹریڈیشنز (Traditions) اور روایات وابستہ ہوتی ہیں اُن ٹریڈیشنز اور روایات کے رکھنے والوں کو ان پر چلنا بہ نسبت دوسروں کے زیادہ آسان ہوتا ہے۔دنیا کی ادنیٰ سے ادنی قوم میں بھی بعض روایات ہوتی ہیں اور تم دیکھو گے کہ وہ قوم ان روایات پر عمل کرنے میں ساری اقوام سے زیادہ کامیاب ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں اس قوم کو لیتا ہوں جود نیا میں سب سے زیادہ بدنام ہے اور وہ کنچنیاں ہیں۔میں غیر اقوام کی کنچنیوں کو نہیں جانتا۔ہاں! مسلمان کنچنوں میں نیک کاموں کے لیے روپیہ خرچ کرنے کی بڑی عادت ہوتی ہے اور غالباً یہ طریق ان میں اس لیے رائج ہے کہ وہ خیال کرتی ہیں کہ ہم روزانہ گناہ کرتی ہیں چلو! ان کاموں میں بھی کچھ خرچ کر لیا جائے تا کہ گناہ کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے۔اسی طرح بعض روایات چوہڑوں میں پائی جاتی ہیں۔مثلاً اپنی قوم میں شادی کرنا ہے۔جو قو میں چھوٹی سمجھی جاتی ہیں وہ بھی اس جذبہ میں بڑی قوموں سے پیچھے نہیں ہوتیں۔چنانچہ جس مشکل سے ایک پٹھان ، ایک سید، ایک مغل، ایک قریشی، ایک راجپوت یا ایک برہمن اپنی لڑکی کا رشتہ غیر اقوام کو دینے کے لیے تیار ہو گا تم دیکھو گے کہ اسی مشکل سے ایک چوہڑا بھی اپنی لڑکی کا رشتہ غیر قوم کے لڑکے کو دینے کے لیے تیار ہو گا۔مجھے یاد ہے قادیان میں میں نے ایک لڑکی کے لیے رشتہ تجویز کیا۔جن کی لڑکی تھی وہ پیشہ کے لحاظ سے دُھنے یعنی پینجے تھے جو روئی دھنکتے ہیں۔ویسے وہ کشمیری تھے۔اور جس نوجوان سے رشتہ کی تجویز کی گئی تھی وہ درزی تھا اور بادی النظر میں یہی سمجھا جاتا تھا کہ دُھنیے سے درزی اچھا ہے۔اُس کی کمائی بھی زیادہ تھی اور پھر اُس کی دکان بھی تھی۔پس میں نے سمجھا کہ میں نے اس لڑکی کا رشتہ ایک آسودہ حال خاندان میں کروایا ہے۔اس لڑکی کی دادی زندہ تھی اور گوا سے حق ولایت حاصل نہیں تھا۔حق ولایت لڑکی کے والد کو حاصل تھا جو زندہ تھا۔لیکن عام طور پر دادیاں سمجھتی ہیں کہ پوتیوں پر اُن کا بھی حق ہے اس نے بیٹے کو رشتہ سے انکار کر دینے پر ا کسایا لیکن وہ نہ مانا کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ اس میں اس کی لڑکی کا ہی فائدہ ہے۔وہ بڑی پردہ دار عورت تھی اور ہم اسے بڑی صالح اور شرم و حیا والی عورت سمجھا کرتے تھے لیکن جب اس کی غیرت کو یہ ٹھوکر لگی کہ ایک شریف دُھنیا کی لڑکی ایک کذات درزی سے بیاہی جا رہی ہے اور اسے معلوم ہوا کہ اس نکاح کی تحریک میں میرا بھی حصہ ہے