خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 35

$1951 35 خطبات محمود درندوں کو کس نے صاف کیا ؟ سندھیوں نے ہی صاف کیا۔اس ملک میں آبادیاں کس نے قائم کیں؟ سندھیوں نے ہی قائم کیں۔پس در حقیقت وہی اس کے مالک ہیں اور جب تک ہم علاقہ کے مالک کی جس میں ہم مہمان کے طور پر آ کر بس گئے ہیں زبان نہیں سیکھتے ہم اس اخلاقی فرض کو ادا نہیں کرتے جو میزبان کا مہمان پر ہوتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ سندھی پنجابیوں سے اچھے تعلقات نہیں رکھتے۔میں کہتا ہوں تم ان کا حق ادا کرو وہ تمہارا حق خود بخو دا دا کرنے لگ جائیں گے۔آخر تم میں سے کتنے ہیں جو سندھی زبان جانتے ہیں؟ تھوڑے بہت الفاظ تو میں بھی جانتا ہوں۔مثلاً بنی اور سائیں وغیرہ الفاظ مجھے آتے ہیں مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ مجھے سندھی زبان آتی ہے۔اسی طرح اگر تم بھی سندھی زبان کے چند الفاظ جانتے ہو تو یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ تمہیں سندھی آتی ہے۔سندھی جاننے کے معنے یہ ہیں کہ اگر تمہیں سندھی میں تقریر کرنی پڑے تو تم تقریر کر سکو ، اپنا مطلب انہیں سمجھا سکو اور ان کا مطلب خود سمجھ سکو۔جہاں تک مجھے معلوم ہے یہاں ایک شخص بھی ایسا نہیں جو سندھی میں تقریر کر سکتا ہو۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کو جب یہاں مبلغ بنا کر بھیجا گیا تھا تو وہ سندھی میں تقریر کرنے لگ گئے تھے لیکن اور کسی نے سندھی زبان سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔پس پہلی نصیحت تو میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ تم سندھی زبان سیکھو اور لوگوں کو اسلامی مسائل سکھاؤ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر شخص الگ الگ استعداد رکھتا ہے مگر ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہم ہر شخص کو اسلام کا سپاہی بنانے کی کوشش کریں۔پھر جو لوگ قابلیت رکھنے والے ہوں گے وہ خود بخود آگے نکل آئیں گے کھیتی باڑی میں بھی یہی اصول نظر آتا ہے۔جب کھیت میں بیج ڈالا جاتا ہے تو ہر دانے کا سقہ نہیں بنتا۔کوئی دانہ تو ایسا ہوتا ہے جو اُگتا ہی نہیں، کوئی اُگتا ہے تو اس پر زیادہ دانوں والا سقہ نہیں لگتا اور کوئی ایسا ہوتا ہے کہ جس کا ستہ زیادہ دانوں والا ہوتا ہے۔غرض کھیتوں کو لے لو، سبزیوں، ترکاریوں کو لے لو، جانوروں کو لے لو ہر چیز کی پیدائش میں تمہیں اختلاف نظر آئے گا۔جانوروں میں سے ہی کسی کا بچہ تو پیٹ میں ہی ضائع ہو جاتا ہے، کوئی چھوٹی عمر میں مرجاتا ہے، کوئی بڑا تو ہو جاتا ہے مگر تمام عمر کمزور رہتا ہے اور کوئی بڑا ہو کر طاقتور اور مضبوط بن جاتا ہے۔یہی حال انسانوں کا ہے۔انسانوں میں بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کے دین کے لیے غیرت پائی جاتی ہے۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دلوں میں دین کا شوق تو ہوتا ہے مگر تھوڑا۔