خطبات محمود (جلد 32) — Page 262
$1951 262 خطبات محمود اس وقت ہماری جماعت کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایک کروڑ روپیہ کا ریز رو فنڈ قائم کر دے۔بیشک ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ بعض امراء حیران ہوں گے کہ کیا ہماری جماعت اتنی کمزور تھی کہ اتنا بڑا خلیفہ صرف ایک کروڑ روپیہ کو اپنا بڑا مقصد قرار دیتا تھا؟ لیکن ہمارا روپیہ ہمارے دل اور جگر کا خون ہو گا کی اور اُن کا روپیہ اُن کے دل اور جگر کا خون نہیں ہوگا بلکہ وہ نہایت آسانی کے ساتھ اپنی جیب میں۔نکال کر دے دیں گے اور انہیں کچھ بھی تکلیف محسوس نہیں ہوگی۔پس ہمارے کروڑ اور اُن کے کروڑ میں فرق ہے۔مجھے اس موقع پر ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ایک شخص جو غریب مستری تھا ترقی کرتے کرتے نجنیئر بن گیا اور آخر میں ”خاں صاحب کا خطاب بھی اسے مل گیا۔اُس میں خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی قوم چھپاتا نہیں تھا اور صاف طور پر کہہ دیتا تھا کہ ہم لوہار ہوا کرتے تھے۔اب میں نے سنا ہے کہ وہ اپنی قومیت چھپانے لگ گیا ہے۔بہر حال اُس نے سنایا کہ ایک بڑا زمیندار جو اپنے علاقہ کا رئیس تھا اس کی نے ایک دفعہ میری دعوت کی۔اُسے بھی گورنمنٹ کی طرف سے خاں صاحب کا خطاب ملا ہوا تھا۔مرد تو جانتے ہیں کہ عزت خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اس پر فخر نہیں کرنا چاہیے مگر عورتوں میں یہ بات نہیں ہوتی۔وہ خیال کرتی ہیں کہ جو عزت ہمیں ملی ہے اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوسکتا۔بہر حال اُس نے بتایا کہ خاں صاحب نے میری دعوت کی۔اور کئی لوگوں کو اُس نے بلایا ہوا تھا۔جب ہم کھانا کھانے بیٹھے تو وہ کہنے لگا خاں صاحب! آج ہمارے گھر میں لطیفہ ہو گیا۔میں نے اپنی بیوی سے کہا ہوا تھا کہ آج فلاں خاں صاحب کی دعوت ہے۔جب میں اندر گیا تو میری بیوی مجھے کہنے لگی آپ تو کہتے تھے کہ خاں صاحب کی دعوت ہے اور میں نے سنا ہے کہ یہ جس کی آپ دعوت کر رہے ہیں ہمارے مستریوں کا لڑکا ہے۔میں نے کہا ٹھیک ہے وہ مستریوں کا ہی لڑکا ہے۔کہنے لگی پھر مستریاں دے منڈے نوں خاں صاحب کس نے بنا دیتا ہے؟ یعنی پھر مستریوں کے لڑکے کو خان صاحب کس نے بنا دیا ہے؟ میں نے کہا گورنمنٹ نے بنا دیا ہے اور کس نے؟ وہ کہنے لگی "گورنمنٹ عجیب پاگل ہے، الے گئیں خاں صاحب نالے اوہ خاں صاحب اس پر میں نے اُسے سمجھانے کے لیے ہنس کر کہا کہ یہ کونسی تعجب کی بات ہے۔دیکھو! زمینداروں کا بھی چودھری ہوتا ہے اور چو ہڑوں کا بھی چودھری ہوتا ہے ایہہ مستریاں دا خاں صاحب ہے، میں زمینداراں دا خاں صاحب ہاں یعنی وہ مستریوں کا