خطبات محمود (جلد 32) — Page 263
خطبات محمود 263 $1951 خاں صاحب ہے اور میں زمینداروں کا خاں صاحب ہوں۔اس پر وہ خاموش ہوگئی۔تو یہ حالات بہر حال بدلیں گے۔ایک جیسی حالت کسی قوم پر ہمیشہ نہیں رہ سکتی۔مگر آنے والے امراء کا روپیہ دریا میں سے ایک قطرہ ہوگا اور ہمارا روپیہ وہ ہے جو ہم خونِ دل اور خونِ جگر کے ساتھ جمع کر رہے ہیں۔اور قطرہ میں سے دریا کا رنگ رکھتا ہے۔پس اُن کا حیران ہونا کہ کسی وقت ہماری جماعت کی مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ ایک کروڑ روپیہ جمع کرنا بھی بڑی بات سمجھی جاتی تھی کوئی تعجب کی بات نہیں۔مگر اس وقت کے آنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم حسن تدبیر سے اور عقل سے اور قربانی سے کام لیں اور اپنے نفس پر بوجھ ڈال کر چندوں میں ایسی باقاعدگی اختیار کریں کہ ا سالانہ اخراجات کو پورا کرنے کے علاوہ ہم مستقل طور پر ایک کروڑ کاریز رو فنڈ قائم کرسکیں تا کہ مشکل کے وقت اس کی آمد ہمارے کام آئے۔جیسے میں نے بتایا ہے ہم نے مسجد کے لیے زمین خریدی تو ایک نی دوست سے قرض لے کر اور اب ہم شرمندہ ہیں کہ قرض واپس نہیں کر سکے۔اگر ریز رو فنڈ قائم ہوتا تو ہمیں کوئی مشکل پیش نہ آتی۔ہم یہ قرض وہاں سے ادا کر دیتے اور جماعت سے آہستہ آہستہ چندہ وصول کرتے رہتے۔پس یہ بھی ایک جائداد ہے جو تحریک جدید کے چندہ سے قائم ہوئی ہے۔ابھی وہ ابتدائی حالت میں ہے لیکن اس کو بڑھانے اور مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تحریک جدید کے چندہ کو زیادہ منظم اور باقاعدہ کیا جائے اور اس کی وصولی کے لیے زور دیا جائے۔اس سال کے تحریک جدید کے وعدوں کے لیے میں نے وقت کا اعلان نہیں کیا تھا۔اب میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ تحریک جدید کے وعدوں کی آخری میعاد مغربی پاکستان والوں کے لیے 15 فروری ہوگی، ایسٹ پاکستان اور ہندوستان سے آنے والے وعدوں کے لیے آخری تاریخ 10 مارچ ہوگی اور پاکستان اور ہندوستان سے جو باہر کے ممالک ہیں مثلاً امریکہ ہے، انگلستان ہے، ایسٹ افریقہ ہے، ویسٹ افریقہ ہے یا اور دوسرے ممالک ہیں اُن سب کے وعدوں کے لیے 10 مئی آخری تاریخ ہو گی۔دوسری چیز جلسہ سالانہ ہے۔ہمارا جلسہ سالانہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اب بالکل قریب آرہ ہے۔اس کے لیے ہمیں مکانوں کی بھی ضرورت ہے اور کام کرنے والے افراد کی بھی ضرورت ہے۔مکانوں کی مشکلات چونکہ زیادہ ہیں اس لیے ہماری جماعت کے افراد کو یہاں اُس سے زیادہ قربانی کی