خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 230

$1951 230 خطبات محمود اور مساجد گرائی جارہی ہیں۔ہزاروں ہزار بزرگوں کے مقابر اس وقت مشرقی پنجاب میں گرے ہوئے ہیں۔کتے اُن پر پیشاب کرتے ہیں تو کوئی اُن کو روکنے والا نہیں ہوتا ، ہزاروں ہزار مسجد میں مشرقی پنجاب اور یو۔پی وغیرہ میں گری ہوئی ہیں اور اُن کی بے حرمتی کی جارہی ہے محض اس لیے کہ مسلمانوں نے جہاد کو ترک کر دیا۔اگر مسلمان جہاد حقیقی کو سمجھ لیتا ، اگر مسلمان جان لیتا کہ صرف تلوار چلانا ہی جہاد نہیں تو آج وہ دنیا میں ذلیل نہ ہوتا۔اس نے سمجھا کہ تلوار کا جہاد ہی اصل جہاد ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب انہوں نے کوئی علاقہ فتح کر لیا تو سمجھ لیا کہ اب اُن کا کام ختم ہو گیا ہے۔اگر وہ اس جہاد کو سمجھتے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کیا ہے کہ کبھی تلوار چلانا جہاد ہوتا ہے، کبھی تبلیغ کرنا جہاد ہوتا ہے، کبھی اشاعت لٹریچر کرنا جہاد ہوتا ہے، کبھی تربیت کرنا جہاد ہوتا ہے، کبھی تعلیم دینا جہاد ہوتا ہے۔تو جب ہندوستان کو انہوں نے فتح کر لیا تھا وہ یہ نہ سمجھتے کہ اُن کا کام ختم ہو گیا ہے بلکہ سمجھتے کہ آب ہمارا اور کام شروع ہو گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لڑائی سے واپس آئے تو آپ نے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد سے آب بڑے جہاد کی طرف آئے ہیں g یعنی وہ جہاد تو ختم ہو گیا اب تعلیم و تربیت کا جہاد شروع ہو گا جو اُس جہاد سے زیادہ اہم ہے۔پس جہاد ہمیشہ کے لیے ہے۔یہ محض مولویوں کی نادانی اور بیوقوفی تھی کہ انہوں نے تلوار کے جہاد کو ہی جہاد سمجھا اور اس طرح اسلام کو نقصان پہنچا دیا۔چنانچہ جب تلوار کا جہاد ختم ہوگیا تو مسلمانوں نے سمجھا کہ اب اُن کا کام بھی ختم ہو گیا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ آج بھی ہندوستان میں بیس کروڑ ہندو اور آٹھ کروڑ مسلمان ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام والا جہاد اختیار کیا جاتا تو آج بیس کروڑ مسلمان اور آٹھ کروڑ ہندو ہوتے بلکہ آٹھ کروڑ ہندو بھی نہ ہوتے سب کے س مسلمان ہوتے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ سات سو سال تک حکومت کی جائے اور پھر کافر باقی رہ جائیں۔اگر تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا جاتا تو یہ ناممکن تھا کہ غیر مذاہب کے لوگ اتنی کثرت کے ساتھ موجود رہتے۔پس جب میں نے کہا کہ یہ تحریک تین سال کے لیے ہے یا جب میں نے کہا کہ یہ تحریک دس سال کے لیے ہے تو یقیناً میں نے غلط کہا مگر اس لیے کہا کہ جو کچھ خدا کا منشا تھا وہ میں پورے طور نہیں سمجھا تھا۔جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدینہ والوں کے معاہدہ کی حقیقت کو اُس وقت