خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 216

$1951 216 خطبات محمود رہنے والے احمدی جن کو مشرقی پنجاب والی چوٹ نہیں پڑی تھی اُن کے دلوں میں زیادہ خوف پیدا ہوا اور اُن کی وجہ سے ہمارے چندوں میں اضافہ ہو گیا لیکن بعد میں وہ اس صدمہ کو بھول گئے اور اُن کا کی جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔یہ توجیہ نہایت بھیانک خطرہ آئندہ کے لیے پیدا کرتی ہے جس کو دیکھنا یا سننا بھی کوئی شخص برداشت نہیں کر سکتا۔اس کے مقابلہ میں ہمارا دل اس بات کو زیادہ برداشت کر لیتا ہے کہ کچھ احمدیوں میں کمزوری پیدا ہوئی اور انہوں نے اس تحریک میں اتنا حصہ نہیں لیا جتنا حصہ انہیں لینا چاہیے تھے اور اس وجہ سے وعدوں میں کمی آگئی لیکن باقی احمدی اپنے اخلاص پر قائم رہے۔یہ توجیہہ زیادہ تسلی کا موجب ہوتی۔اگر ایسا ہوتا بہ نسبت اس کے کہ یہ سمجھا جائے کہ اُس ضرب کی وجہ سے جو تقسیم ملک کی وجہ سے پڑی تھی لوگوں نے اپنی قربانی زیادہ کر دی تھی۔بہر حال کوئی وجہ بھی ہو تحریک جدید کے اس سال اور گزشتہ دوسال کے وعدے پسندیدہ نہیں سمجھے جا سکتے کیونکہ ان سالوں میں لوگوں کے وعدے اوپر سے نیچے کی طرف گرنے شروع ہو گئے ہیں۔اس سے پہلے ان کے وعد۔نیچے سے اوپر کی طرف چڑھتے تھے اور یہی ایک مومن کی شان ہونی چاہیے کہ وہ نیچے نہ گرے۔اور واقعات بھی یہی بتاتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد عام طور پر ہمارے ملک کی مالی حالت پہلے سے بہتر ہوگئی ہے۔تنخواہیں بڑھ گئی ہیں، تجارتیں وسیع ہو رہی ہیں، کارخانے کھل گئے ہیں اور وہ روپیہ جو پہلے ہندو کی جیب میں جاتا تھا اب مسلمان کے ہاتھ میں جاتا ہے اور بحصہ رسدی احمدیوں کے ہاتھ میں بھی آتا ہے۔پس بظاہر حالات چاہیے یہ تھا کہ یہ رفتار اوپر کی طرف چلتی اور پہلے سے زیادہ سرعت کے ساتھ ترقی کرتی نہ یہ کہ پہلے معیار سے بھی گر جاتی۔پس ایک تو میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ غفلت جہاں سے بھی پیدا ہوئی ہے اُسے دور کرنا چاہیے۔یا تو یہ بات ہے جو نہایت خطرناک ہے کہ 1947ء کی چوٹ کے خوف کی وجہ سے تمام احمدیوں نے یکدم اپنے وعدے زیادہ کر دیئے تھے ، خدا نہ کرے ایسا ہو۔اور یا پھر اس کی یہ وجہ ہے کہ بعض احمد یوں نے کمزوری دکھائی اور ان کی وجہ سے کمی آ گئی۔بہر حال کوئی صورت ہو اور کسی وجہ سے بھی کمی آگئی ہوا گر دین کے لیے روپیہ کم آئے گا تو اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر تبلیغ بھی کم ہوگی۔چاہے کوئی وجہ ہو۔خواہ چوری ہوگئی ہو اور اس وجہ سے روپیہ کم ہو گیا ہو۔یا آمد کم ہوگئی ہو یا سستی اور غفلت واقع ہوگئی ہو نتیجہ یہی نکلے گا کہ پیسہ کم آئے گا۔اور جب پیسہ کم