خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 183

خطبات محمود اختلاف نہ ہو۔183 $1951 اصل امن والی تعلیم قرآن کریم ہے۔یہ کتی پاکیزہ تعلیم ہے کہ حکومت کے سوا کسی کو شرعی تعزیہ دینے کا اختیار نہیں اور حکومت بھی اُسی تعزیر کا اختیار رکھتی ہے جس کا اختیار اسے قرآن کریم نے دیا ہے۔گویا پہلے عوام کے ہاتھ بند کیے، پھر حکومت کے ہاتھ یہ کہ کر بند کر دیئے کہ تم بھی قضاء کے ذریعہ کی ہی تعزیر کا اختیار رکھتے ہو۔ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا يارسول اللہ ! اگر میں اپنی عورت کے پاس غیر مرد کو دیکھوں تو آیا مجھے اس کو قتل کرنے کی اجازت ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اسے قتل کرو گے تو اس کے بدلہ میں تمہیں قتل کیا جائے گا۔تم گواہ پیش کرو۔اُس شخص نے کہا یا رسول اللہ ! اتناد یوث کون ہوگا کہ وہ اپنی عورت کے پاس غیر مرد کو دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے۔اسلام نے ایسے شخص کی سزا قتل رکھی ہے تو کیوں نہ میں اُسے مار دوں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے ایسا کیا تو پکڑے جاؤ گے۔5 اُس وقت تک زانی کو رجم کیا جاتا تھا اور وہ صحابی بھی اسے قتل کرنے کے لیے ہی اجازت چاہتے تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ تم نے اپنی عورت کے پاس غیر مرد کو دیکھا لیکن تم قاضی کے پاس جاؤ۔وہ فیصلہ کرے گا کہ تم ٹھیک کہتے ہو یا غلط۔اب یہ کتنی واضح دلیل ہے کہ اسلام نے کسی صورت میں بھی شرعی تعزیر کی جس میں قتل کرنا ، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور قید کرنا شامل ہیں کسی فرد کو اجازت نہیں دی۔ہاں ! بعض سزاؤں کی اجازت دی ہے مثلاً ایک باپ یا استاد بچے کو اُس کے کسی قصور پر مار سکتا ہے۔پھر قومی سزاؤں کا قوم کو اختیار ہے۔مثلاً کسی قصور پر ہم ایک شخص کو جماعت سے خارج کر دیتے ہیں تو اس کا ہمیں اختیار ہے کیونکہ یہ شرعی تعزیر نہیں۔جو شرعی تعزیریں ہیں مثلاً قتل کرنا ، ہاتھ پاؤں کاٹنا، قید کرنا، کوڑے لگانا وغیرہ ان کا اختیار حکومت کو ہے اور وہ بھی قضاء کے ذریعہ حکومت عارضی طور پر کسی کو قید کر سکتی ہے لیکن بعد میں اس کا فیصلہ قضاء ہی کرے گا۔اگر تم اسلام کی اس تعلیم کو ملک میں جاری کر دو تو کوئی قتل ممکن ہی نہیں۔نہ آگ لگائی جاسکتی ہے اور نہ کسی کو مارا پیٹا جاسکتا ہے۔اس تعلیم کو جاری کرنے کے بعد ہی ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے۔تم پہلے اسلامی ذہنیت پیدا کرو۔یہ نہیں کہ ایک طرف مولوی یہ کہے کہ ملک میں اسلامی تعلیم پھیلاؤ اور دوسری طرف یہ کہے کہ فلاں شخص اسلامی تعلیم کے خلاف چلتا ہے اُس لیے اسے قتل کر دو۔ہم حکومت کو کئی دفعہ اس طرف توجہ دلا چکے