خطبات محمود (جلد 32) — Page 184
$1951 184 خطبات محمود ہیں لیکن اُس کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جو ذہنیت احمدیوں کے خلاف پھیلائی گئی تھی وہ پاکستان کے خلاف چل گئی۔اور اگر اس ذہنیت کو جلدی تبدیل نہ کیا گیا تو صرف احمدیوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ لوگ ان مولویوں کے خلاف بھی جو یہ فتوی دیتے ہیں کارروائی کریں گے۔غرض یہ ذہنیت نہایت خطرناک ہے۔اگر اسے جلد روکا نہ گیا تو یہ ملک کے لیے بہت بڑے خطرے کا موجب ہو گی۔اگر مولوی حقیقت میں ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے تو وہ رعایا کو سکھاتے کہ شرعی تعزیر ان کے اختیار میں نہیں۔شرعی تعزیر حکومت کے اختیار میں ہے بلکہ حکومت بھی شرعی تعزیر قضاء کے ذریعہ دے سکتی ہے۔اگر واقع میں یہ تعلیم دی جائے تو خان لیاقت علی خان تو پاکستان کے پریمئیر (PREMIER) تھے پاکستان کا ایک غریب سے غریب لڑکا بھی نہیں مارا جاسکتا۔جب ہر شخص کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ ایسا فعل خدا تعالیٰ کے منشاء اُس کے رسول کی تعلیم ، قرآن کریم ، اخلاق ، حب الوطنی، روح نظام اور ملک و ملت کے خلاف ہے تو کوئی شخص ایسا فعل کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔اگر خان لیاقت علی خان جنگل میں بھی ہوتے اور سوائے ان کے اور قاتل کے وہاں کوئی نہ ہوتا لیکن قاتل کے ذہن میں اسلام کی صحیح تعلیم ہوتی تو وہ کبھی نہ مارے جاتے۔ایسی صورت میں پولیس وغیرہ کی کوئی ضرورت نہ تھی۔پس اصل چیز یہ ہے کہ اسلام کی صحیح تعلیم کو قائم کرو۔یہ ملاں جو ہلاکو کی تعلیم کو پھیلا رہے ہیں خان لیاقت علی خان کے قتل کے اصل ذمہ دار ہیں۔جب تک حکومت ان کے منہ بند نہیں کرے گی ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا“۔الفضل 6 نومبر 1951ء) 1:مسند احمد بن حنبل - مسند الكوفيين۔حدیث اسامه بن شریک جلد 5 صفحه 350۔بيروت لبنان 1994ء میں لَمْ يُنَزِّلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ مَعَهُ شِفَاءً إِلَّا الْمَوْتَ وَالْهَرَم کے الفاظ ہیں اور صحیح مسلم کتاب السلام باب لِكُلِّ داءٍ دواء و استحباب التداوی میں ” لِكُلِّ دَاء دواء“ 2 : ابوداؤد کتاب الجنائز باب في الموت الفجأة 3: كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرَ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ (البقرة: 181) ج