خطبات محمود (جلد 32) — Page 110
$1951 110 خطبات محمود اگر تمہارے گاؤں کا نمبر دار بھی تمہاری مخالفت کرتا ہے تو تم شور مچانے لگ جاتے ہو کہ ظفر اللہ کو کھو، ظفر اللہ کو تار دو۔جہاں انسان کی اتنی ہمت ہو کہ ایک نمبر دار اور ہمسایہ کی مخالفت سے بھی وہ کانپنے لگے اور اُس کا ایمان متزلزل ہو جائے وہاں اُس نے اور کیا کرنا ہے؟ وہ قومیں جو اس وقت ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہیں اُن کا مقابلہ کرنے کی تم میں کہاں ہمت ہے؟ تم اسی طرح امن میں رہ سکتے ہو کہ یا تو جس طرح چھچھوندرزمین میں سوئی رہتی ہے اُسی طرح تم بھی سو جاؤ اور بھول جاؤ اس بات کو کہ تمہارے خلاف کوئی فتنہ بر پا ہے۔اور یا پھر خدا تعالی کی گود میں پناہ لے لو۔اطمینان انسان کو دو ہی طرح حاصل ہوسکتا ہے۔یا تو فتنہ کو کھول کر اور یا پھر خدا تعالیٰ کی گود میں پناہ لے کر مگر خطرہ کو بھلا کر جو امن حاصل ہوتا ہے وہ انسان کو تباہ کر دینے والا ہوتا ہے۔جس شخص کے گردہ میں پتھری ہو اور وہ افیون کھا کر اپنے درد کو دور کر لیتا ہو اور سمجھتا ہو کہ مجھے آرام ہے وہ ایک دن ہلاک ہو جائے گا۔لیکن وہ شخص جو ڈا کٹر کے پاس جائے گا اور آپریشن کروائے گا وہ بچ جائے گا۔اسی طرح اگر تم بھی افیون والا علاج کرتے ہو اور دجالی فتنہ کی طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہو اور سمجھتے ہو کہ ہم امن میں ہیں تو تم اپنا وقت غفلت میں گزار رہے ہو۔تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ امن امن نہیں بلکہ تباہی اور بربادی کا پیش خیمہ ہے۔لیکن اگر تم خدا تعالی کی گود میں پناہ لے لیتے ہو تو تم اپنے درد کا صحیح علاج کرتے ہو۔کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کی گود میں بیٹھ جاتا ہے اُسے سلایا نہیں جاتا بلکہ اُس کے مرض کو دور کیا جاتا ہے اور اس کی صحت کو زیادہ اچھا بنایا جاتا ہے۔اور اگر تم سمجھو تو یہی حقیقی علاج ہے۔تلوار تمہارے پاس نہیں، گولہ بارود تمہارے پاس نہیں، تو ہیں تمہارے پاس نہیں ، حکومت تمہارے پاس نہیں، روپیہ تمہارے پاس نہیں، فوجیں تمہارے پاس نہیں ، ہوائی جہاز تمہارے پاس نہیں ایٹم بم تو دور کی بات ہے۔یا تو تم یہ کہو کہ ہم وہ جماعت نہیں جس نے کفر کو مٹانا ہے۔اور اگر تم کہتے ہو کہ ہم وہی جماعت ہیں جس نے کفر کو دنیا سے نابود کرنا ہے تو تمہارے پاس اس غرض کے لیے کونسا سامان ہے؟ آخر آپ ہی آپ کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی سامان ہوتا ہے یا مادی سامان ہوتا ہے۔یا روحانی سامان ہوتا ہے۔مادی سامان تمہارے پاس ہے نہیں۔پس تم ایک ہی جواب دے سکتے ہو کہ ہمارے پاس تیر نہیں، تفنگ نہیں، توپ نہیں ، ہوائی جہاز نہیں۔ہمارے پاس صرف دعا کا ہتھیار ہے۔میں کہوں گا ٹھیک ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر تلوار تمہارے گھر میں