خطبات محمود (جلد 32) — Page 82
1951ء 82 خطبات محمود دیکھنے سے ہوتی ہے۔ اور جو شخص یہ کوشش کرتا ہے کہ بغیر تصویر کے محبت الہی پیدا ہو جائے وہ بیوقوف ہے۔ ہزاروں بار دیکھنے، پڑھنے اور سننے میں آیا ہے کوئی شخص گار بو یا کسی اورایکٹریس پر عاشق ہو گیا حالانکہ گار بویا وہ ایکٹریس اُس نے دیکھی بھی نہیں ہوتی۔ سکرین پر شکل دیکھی اور اُس پر لقو ر ہو گیا۔ اس ہوا کہ محبت صرف دیکھنے سے ہی پیدا نہیں ہوتی سننے اور تصویر دیکھنے سے بھی پیدا ہو جاتی ہے اور غیر مرئی چیز کی تصویر اُس کی صفات ہوتی ہیں۔ اگر کوئی خدا تعالیٰ کی صفات کو بار بار ذہن میں لائے سے معلوم تو آہستہ آہستہ اس کا نقشہ بنتا جائے گا۔ تم پانی یا ملائی کی برف بناتے ہو تو اُس کو بار بار ہلاتے ہو۔ کیا پہلے جھٹکے میں ہی برف بن جاتی ہے؟ اس پر بہر حال وقت لگتا ہے اور بار بار ہلانے سے برف بنتی ہے۔ اسی طرح محبت الہی بار بار ذکر الہی کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک ایک، دو دو دفعہ ذکرِ الہی کرو گے یا غلط طور پر ذکر الہی کرو گے تو انجام کار تمہاری کوشش ضائع ہو جائے گی۔ لیکن تم اگر ٹھیک طور پر ذکر الہی کرو گے اور بار بار کرو گے تو اس سے محبت الہی پیدا ہوگی ۔ صفات الہیہ کا بار بارد ہرانا اور تو اتر سے دہرانا اس سے خدا تعالیٰ کی تصویر بنتی ہے اور اس تصویر کی وجہ سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ کی تصویر کو نظر انداز کر کے غیر طبعی طور پر محبت الہی کو پیدا کرنا حماقت کی چیز ہے اور ایسے لوگ سر مار مار کر مر جاتے ہیں لیکن انہیں ملتا کچھ نہیں“۔ خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: میں نماز کے بعد بعض دوستوں کے جنازے پڑھاؤں گا ۔ حسین بخش صاحب کے بیٹے نے اطلاع دی ہے کہ اُن کے والد فوت ہو گئے ہیں ۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ ان کی وفات موضع بونگا بلوچاں ضلع لاہور میں ہوئی ہے جہاں جنازہ پڑھنے والا کوئی احمدی نہیں تھا۔ محمد اکبر صاحب اطلاع دیتے ہیں کہ محمد یوسف صاحب درویش کے لڑکے فوت ہو گئے ہیں۔ مرحوم مخلص اور سلسلہ کا خدمت گزار تھا۔ دوست محمد صاحب حجانہ نے اطلاع دی ہے کہ صوفی اللہ بخش خان صاحب لغاری بلوچ پٹواری نہر ڈیرہ غازیخان فوت ہو گئے ہیں ۔ مرحوم مخلص احمدی تھے اور تبلیغ کا بہت شوق رکھتے تھے۔ منشی سکندر علی صاحب چک نمبر 260 تحصیل سمندری ضلع لائلپور سے اطلاع دیتے ہیں کہ