خطبات محمود (جلد 32) — Page 78
1951ء 78 خطبات محمود ان محدود معنوں کے لیے ترجمہ پیش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ لیکن دوسرے معنوں میں جب یہ لفظ استعمال ہوگا تو پھر ترجمہ کی ضرورت پیش آئے گی ۔ جب جب یہ لفظ وسیع معنوں میں استعمال اس ۔ بعد اسے ہوتا ہے تو پہلے ہم اس کے معنے ذہن : ذہن میں لاتے ہیں اور پھر اس کا ترجمہ کرتے ہیں ، اس کے بعد ا - دماغ کی لائبریری میں رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح مالک کا لفظ ہے۔ عربی میں یہ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اپنے مادے کے لحاظ سے یہ کئی کیفیتوں پر دلالت کرتا ہے لیکن اردو زبان میں یہ لفظ محدود معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ جب ان معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوگا تو ہمارے دماغ کو اس کا ترجمہ نہیں کرنا پڑے گا بلکہ اس کا مفہوم براہ راست ہمارے ذہن میں آ جائے گا۔ لیکن جب یہ دوسرے معنوں میں استعمال ہوگا تو پہلے ہم اس کے معنی ذہن میں لائیں گے اور پھر اس کا اپنی زبان میں ترجمہ کریں گے۔ اسی طرح رحمان ہے ، رحیم ہے۔ ان کا مفہوم بھی براہ راست ذہن میں نہیں آتا بلکہ دماغ ان کا پہلے ترجمہ کرتا ہے پھر وہ معنے دماغ کی لائبریری میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ تم اپنے دل میں انہیں رکھ کے دیکھ لو تمہیں ابھی پتا لگ جائے گا کہ اس کے کیا معنے ہیں ۔ اگر تم رب کا لفظ کہو تو فوراً س کے بعض معانی ہمارے ذہن میں آجائیں گے کیونکہ یہ لفظ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن رحمان کہو تو یہ فوراً را ہمارے ہمارے ذہن ذ میں نہیں آئے گا حالانکہ یہ لفظ ہم نے ہزاروں دفعہ استعمال کیا ؟ ہو گا کیونکہ یہ لفظ ہماری زبان میں استعمال نہیں ہوتا دماغ پہلے اس کا ترجمہ کرے گا۔ اسی طرح غفور اور غفار کے الفاظ ہیں ۔ یہ عام الفاظ ہیں اور ہم انہیں اپنی زندگی میں ہزاروں بار استعمال کر چکے ہوں گے لیکن ان کا مفہوم ہمارے ذہن میں فورا نہیں آئے گا۔ ہمارے ذہن میں جو کچھ آئے گا وہ اس کا ترجمہ ہوگا اور اس میں کچھ وقت لگے گا خواہ وہ وقت سیکنڈ کا ہزارواں حصہ ہی کیوں نہ ہو۔ جیسے تصویر کے کیمرے ہوتے ہیں۔ بعض کیمرے سیکنڈ کے سویں حصہ میں تصویر کھینچ لیتے ہیں۔ پھر جو ان سے بڑے کیمرے ہوتے ہیں وہ سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں تصویر کھینچ لیتے ہیں اور جو ہوائی جہازوں میں کیمرے ہوتے ہیں وہ تو ان سے بھی بہت بڑے ہوتے ہیں۔ بہر حال وقت ضرور لگے گا خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو۔ تم رحمان، رحیم ، غفور یاستار کا لفظ بولو اور پھر تجربہ کر کے دیکھ لو تمہیں یہ محسوس ہوگا کہ ان کے معنے سمجھنے پر وقت لگا ہے خواہ وہ وقت کتنا ہی قلیل ہو۔ لیکن جو الفاظ اردو زبان کے ہوں گے ان پر کوئی وقت نہیں لگے گا۔ اسی طرح جو غیر زبانوں کے الفاظ ہماری زبان میں مستعمل ہوتے ہیں جنہیں ہم