خطبات محمود (جلد 32) — Page 46
$1951 46 خطبات محمود جاتی ہیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ہماری جماعت جس دور میں سے گزر رہی ہے اور جن حالات کا انہیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کے لحاظ سے ضروری ہے کہ ان میں جو روایات قائم ہوں ان کی بنیاد ا خلاق پر ہو۔موٹے موٹے اخلاق جن سے تمام نقائص کی اصلاح ہو جاتی ہے دنیوی لحاظ سے سچائی ، دیانت اور محنت ہیں اور دینی لحاظ سے نماز ، دعا اور ذکر الہی ہے۔اگر ہم یہ مجھ لیں کہ بغیر اخلاق کے اور بغیر نماز پڑھنے کے محض تبلیغ کے ذریعہ ہم اپنے مقصد کو پالیں گے تو یہ غلط ہے۔یہ ناممکن ہے کہ ہم محض تبلیغ کے ذریعہ دنیا میں کامیاب ہو جائیں۔جس طرح یہ ناممکن ہے کہ خالی نمازیں پڑھنے سے ہم کامیاب ہو جائیں ، جس طرح یہ ناممکن ہے کہ خالی تبلیغ سے کامیابی حاصل ہو جائے ویسے ہی یہ بات بھی ناممکن ہے کہ محض محنت ، بانی اور ایثار کے ذریعہ دنیا میں ہم کامیاب ہو جائیں۔یہ تینوں کونے ہیں جنہیں کامیابی حاصل کرنے کے لیے درست رکھنا ضروری ہے۔بغیر تبلیغ کے لوگوں کو تمہارے مافی الضمیر کا پتا نہیں لگے گا اور خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر تمہارا مافی الضمیر دوسروں کے دلوں پر اثر نہیں کر سکتا۔اسی طرح بغیر دیانت، محنت اور جد وجہد کے تمہاری ایک ایسی مادی مثال لوگوں کے سامنے نہیں آ سکتی جو انہیں تمہاری برتری کا اقرار کرنے پر مجبور کرے۔اگر کسی قوم میں نماز، دعا اور ذکر الہی کی عادت پیدا ہو جاتی ہے تو دیکھنے والے پر سب سے پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ یہ قوم روحانی ہے۔پھر فرشتے ان کے دل کی تا شیرات کو باہر پھیلاتے ہیں۔اور پھر اگر اس میں دیانت، محنت، قربانی، ایثار اور سچائی کی عادت پائی جائے تو دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہ شخص مجھ سے بالا ہے اور اس کی قوم میری قوم سے بالا ہے۔اور جب تبلیغ ہوتی ہے تو وہ اپنے اندرونی خیالات کو دوسروں تک پہنچا دیتا ہے۔گویا تبلیغ وہ نہر ہے جس سے پانی گزرتا ہے، تبلیغ لوہے کی وہ ریلیں ہیں جن پر سے ٹرین گزرتی ہے تبلیغ وہ سمندر ہے جس میں سے جہاز گزرتا ہے۔اگر سمندر کو خشک کر دو تو جہاز بیکار ہو جائے گا، اگر لوہے کی ریلیں اکھیڑ دو تو ٹرینیں چلنی بند ہو جائیں گی، اگر سڑک تو ڑ دو تو موٹریں چلنا بند ہو جائیں گی ، نہر میں گرا دو تو پانی چلنا بند ہو جائے گا، دریا کا پاٹ ریت سے بھر دو تو دریا کی روانی بند ہو جائے گی۔لیکن دریا کے اندر جو تا ثیر ہے ، آگ کے اندر جو تاثیر ہے، ریلوں، سڑکوں اور نہروں میں جو تا ثیر پائی جاتی ہے یہ سب چیزیں خدا تعالی کی نعمتیں ہیں۔ان کا نام ایجاد رکھ لیتے ہیں لیکن در حقیقت یہ ایجاد نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ایک راز کی