خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 20

$1951 20 20 خطبات محمود اور پانچ سات میل چوڑا علاقہ غالبا ہے جس میں پوپ کی حکومت ہے۔بلکہ اسے حکومت بھی نہیں کہنا ہے چاہیے دفاتر کا نظام اُس جگہ قائم ہوتا ہے اور جہاں سارے اپنے ہی کا رکن ہوں وہاں حکومت کا سوال ہی نہیں ہوتا۔بہر حال صرف چند میل کا علاقہ ہے جو عیسائیوں نے محض پوپ کے ادب کے لیے آجکل چھوڑ رکھا ہے مگر اُس کی طاقت کا یہ حال ہے کہ اب بھی عیسائی دنیا پوپ کی ناراضگی کو برداشت نہیں کر سکتی۔دنیا میں کمیونزم ترقی کر رہا ہے، عیسائی دنیا گھبرا رہی ہے اور بڑے بڑے یورپین مد بر کمیونزم کی ترقی سے کانپ رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کا مقابلہ کریں۔اور وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ مذاہب کا اتحادہی وہ اکیلی چیز ہے جس سے کمیونزم کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ان کی سیاستیں بالکل کھو کھلی ہو چکی ہیں ان کی حکومتیں بالکل بیکار ہو چکی ہیں۔اس لیے کہ حکومتوں کا زور تلواروں اور بندوقوں پر ہوتا ہے اور کمیونزم لوگوں کے دلوں میں کھس رہی ہے۔اور چاہے کتنی بڑی تو پیں ہوں جب کوئی بات دل پر اثر کر جائے تو تو ہیں اُس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔امریکہ کے پاس اس وقت کتنی بڑی بڑی تو ہیں ہیں لیکن فرض کر وامریکہ کا پریذیڈنٹ کمیونزم کا لٹریچر پڑھتا ہے اور وہ کمیونزم کا شکار ہو جاتا ہے تو تو ہیں کیا کر سکتی ہیں۔پس کمیونزم دلوں پر حملہ کر رہی ہے اور حکومتیں دلوں پر حملہ نہیں کر سکتیں۔صرف مذہب ہی ہے جو انسان کے دل پر اثر کرتا ہے اور اس وجہ سے مذہب ہی کمیونزم کا صحیح طور پر مقابلہ کر سکتا ہے۔چنانچہ اب دنیا میں عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ کمیونزم کا اگر مقابلہ کیا جاسکتا ہے تو مذہب ہی کے ذریعہ سے۔مگر عیسائیت اب اتنی بدنام ہو چکی ہے کہ اگر وہ ایشیا کی خیر خواہی کے لیے بھی کوئی بات کہے تو لوگ اسے کہتے ہیں اچھا! اب ہماری خیر خواہی کا جبہ پہن کر تم ہمیں دھوکا دینے لگے ہو؟ ہم تمہارے اس فریب میں آنے کے لیے تیار نہیں۔چونکہ پادری کا بجبہ عیسائی سیاست کے ساتھ ہمیشہ وابستہ رہا ہے اور جہاں انگریز کی توپ گئی وہاں پادری کا جبہ بھی جا پہنچا اس لیے اب خواہ وہ کسی اور نیت سے اُن کے سامنے آئیں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک دھوکا اور فریب کا جبہ ہے اور اپنی سیاست قائم کرنے کے لیے ہماری خیر خواہی کا اظہار کیا جارہا ہے۔اور پھر جن ملکوں کے متعلق یہ خطرہ ہے کہ وہ کہیں کمیونزم کے اثر کو قبول نہ کر لیں اُن میں عیسائی کم ہیں اور دوسرے مذاہب کے لوگ بہت زیادہ ہیں۔ان ممالک میں تو یوں بھی عیسائی پادریوں کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔مثلاً اگر ہندوؤں میں کھڑے ہو کر کوئی پادری