خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 248

$1951 248 خطبات محمود پاس آئے اور کہا عمر ! خدا تعالیٰ نے اسلام کو فتح عطا کی ہے اور تم رور ہے ہو؟ حضرت عمر نے کہا تم شاید فتح کے وقت پیچھے آگئے تھے۔انہوں نے کہا ہاں! حضرت عمرؓ نے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہے ہوا۔دشمن نے دوبارہ اچانک حملہ کیا جس سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے۔صرف چند آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رہ گئے تھے۔ان میں سے بھی بعض مارے گئے اور آپ کی خود بھی شہید ہو گئے۔اُس صحابی کے ہاتھ میں صرف کھجور رہ گئی تھی۔انہوں نے اُس کھجور کو پھینکتے ہوئے کہا کہ میرے اور جنت کے درمیان اس کھجور کے سوا اور ہے کیا ؟ پھر انہوں نے حضرت عمرؓ کی طرف دوبارہ دیکھا اور کہا عمر ! اگر ایسا ہی ہوا تھا تو تمہارا مقام محبوب کے پاس جانے کا تھا یا دنیا میں رہنے کا ؟ اُس صحابی نے یہ کہا اور کفار کے لشکر میں گھس گئے۔مسلمانوں کا لشکر اُس وقت پراگندہ ہو چکا تھا اور وہ اکیلے تھے۔یہ تو صحیح ہے کہ انہوں نے مارا جانا تھا اور وہ مارے بھی گئے لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ وہ مارے کس طرح گئے؟ جب مسلمان لشکر دوبارہ اکٹھا ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سے لاشوں کو ہٹایا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ زندہ ہیں۔آپ کو جب ہوش آیا اور خدا تعالیٰ نے اسلام کو دوبارہ فتح دی تو آپ نے حکم دیا کہ شہداء کی لاشیں جمع کی جائیں۔اور نعشیں تو مل گئیں لیکن اس صحابی کی نعش نہ ملی۔صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ يَا رَسُوْلَ اللہ ! باقی سب لاشیں مل گئی ہیں لیکن فلاں صحابی کی لاش نہیں ملی۔آپ نے فرمایا دوبارہ تلاش کرو۔چنانچہ صحابہ پھر گئے اور اس دفعہ اُن کی بہن کو بھی اپنے ساتھ لے گئے کہ شاید وہ بہت زیادہ کٹ گئے ہوں تو کسی نشان کے ذریعہ انہیں پہچان لیا جائے۔ایک جگہ پر اُن کی انگلی پائی گئی جسے اُن کی بہن نے پہچان لیا اور کہا یہ میرے بھائی کی انگلی ہے۔مزید تلاش کرنے پر مختلف جگہوں سے اُن کی لاش کے ستر ٹکڑے ملے۔12- گویا انہوں نے اتنی بے جگری سے لڑائی کی کہ مارنے والے مارتے چلے گئے ، اُن کا پُرزہ پرزہ کہتا گیا لیکن اُن کی تلوار چلتی رہی۔مرنے والا مر گیا لیکن کس شان سے مرا۔لوگ کہتے ہیں وہ دنیا ستر آخرت۔لیکن اس مخلص کے تو اس دنیا میں ہی ٹکڑے ہو گئے اور وہ ثابت کر گیا کہ اپنی زندگی میں وہ جو کہا کرتا تھا وہ محض فخر نہیں تھا، تعلّی نہیں تھی بلکہ وہ ایک سچائی تھی۔یہاں تک کہ عرش سے خدا تعالیٰ نے کہا فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ يَنتَظِرُ - یعنی بیشک بدر کے موقع پر بعض صحابہ نے نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا لیکن کچھ صحابہ ایسے بھی تھے جو اس انتظار میں تھے کہ انہیں موقع ملے تو وہ جان تک قربان کر دیں۔بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ یہ کمزوری کی علامت ہے لیکن وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا۔