خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 188

خطبات محمود 188 $1951 شروع کر دیا ہو۔۔گویا فطرت نے یہی محسوس کیا ہے کہ پکا کر کھانا ترقی یافتہ چیز ہے۔اسی طرح نگا رہنا ہے لا تعری کے یہ معنی نہیں کہ انسان کے لیے سلے سلائے لباس آسمان سے اترا کریں گے اور اس کے یہ معنے نہیں کہ وہاں ننگ ڈھانکنے کے سامان مہیا ہوں گے۔جب انسان اکیلا رہتا ہو تو وہ نگا رہتا ہے لیکن جب وہ مل کر رہتا ہے تو وہ نگا نہیں رہتا۔ایک متمدن سے متمدن آدمی جب اکیلا نہاتا ہے تو وہ نگا نہا لیتا ہے لیکن ایک ادنیٰ سے ادنی آدمی بھی جب باہر آئے گا تو کپڑے پہنے گا سوائے حبشیوں اور اُن لوگوں کے جن کی تہذیب نے ابھی ترقی نہیں کی۔پس لا تعری کے معنے یہ ہیں کہ تم مل کر رہو گے اور لباس پہن کر رہو گے کیونکہ انسانی فطرت میں یہ رکھ دیا گیا ہے کہ جب وہ کسی کے سامنے آئے تن ڈھانک کر آئے۔اسی لیے نگار ہنابُری چیز ہے۔غرض جہاں جہاں انسانی فطرت اپنے آپ کو نمایاں کرتی چلی جاتی ہے وہاں مدنیت ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔در حقیقت انسان پیدا ہی مدنی الطبع ہوا ہے۔اس لیے وہ منڈیوں میں جاتا ہے، غذا ئیں مہیا کرتا ہے، اپنی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور لباس کو ضروری قرار دیتا ہے۔جنگل میں رہنے والا انسان نگا بھی رہتا ہے اور بھو کا بھی لیکن جب وہ شہر میں آتا ہے تو وہ کھانا کھاتا ہے، کپڑے پہنتا ہے۔افریقہ میں ابھی بیشک بعض ایسی قو میں رہتی ہیں، ابھی نئی تہذیب سے اُن کا واسطہ نہیں پڑا تھا۔وہاں جولوگ جاتے تھے وہ بتاتے تھے کہ یہ لوگ ننگے جنگلوں میں رہتے ہیں اور شہروں میں بہت کم آتے ہیں اور اگر آئیں تو شہروں میں انہیں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔اس لیے جب کبھی وہ شہر کی طرف آتے ہیں ایک تہہ بند کندھے پر ڈال لیتے ہیں اور جب وہ شہر کے قریب پہنچتے ہیں تو تہہ بند پہن کی لیتے ہیں لیکن جب واپس جاتے ہیں تو شہر سے باہر نکلتے ہی تہہ بند اُتار دیتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں۔ان لوگوں میں یہ غیر فطرتی چیز پائی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے ابھی صحیح طور پر ترقی نہیں کی۔ورنہ حقیقت یہی ہے کہ جب انسان دوسروں کے سامنے آتا ہے تو اپنا ننگ ڈھانکتا ہے۔یہی چیز لَا تَعْری میں بیان کی گئی ہے کہ تم اکٹھے رہو گے اور جب ایک دوسرے کے سامنے آؤ گے تو تمہیں احساس ہوگا کہ ہم ننگے نہ رہیں۔انسان کی زندگی کا بنیادی اصول یہی ہے اور اسلام کی تاریخ اس کے گرد چکر لگاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم کسی مجلس میں آؤ تو بد بودار چیز کھا کر نہ آؤ۔2 مدنیت کے لیے یہ چیز ضروری ہے۔ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ تمہیں کیا حق ہے