خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 187

$1951 187 خطبات محمود خدا تعالیٰ کی طرف سے روٹی اور کپڑا نازل ہوا کرے گا بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ وہاں اُس کے لیے ی کپڑا اور روٹی کے سامان مہیا ہوں گے۔اور کپڑا اور روٹی کے سامان مدنیت کی صورت میں ہی مل سکتے ہیں۔کوئی شخص گندم بور ہا ہوتا ہے، کوئی با جرابور ہا ہوتا ہے، کوئی جو بورہا ہوتا ہے، کوئی مکئی بو رہا ہوتا ہے۔اسی طرح کوئی گوشت بیچ رہا ہوتا ہے اور کوئی سبزی بیچ رہا ہوتا ہے۔اور یہ چیز جنگل میں نہیں ہو سکتی۔جنگل میں اصل سامان بھوکا رہنے کا ہے کیونکہ انسان کے لیے پکے ہوئے کھانے کی ضرورت ہوتی ہے ور یہ جنگل میں نہیں ہو سکتا۔جنگل میں جانور رہتا ہے اور وہ پتے کھاتا ہے لیکن انسان کی غذا پتے نہیں۔جانور جنگل میں درختوں کی جڑیں اور چھلکے کھا کر گزارہ کرتا ہے لیکن انسان کی غذا جڑیں اور چھلکے نہیں انسان کی غذا گندم، جو ، باجرا اور مکی وغیرہ ہے۔اور یہ چیزیں تبھی مہیا ہو سکتی ہیں جب وہ شہر میں رہتا ہو۔شہر میں کوئی شخص گندم لا رہا ہوتا ہے، کوئی باجر الا رہا ہوتا ہے، کوئی جو اور مکئی لا رہا ہوتا ہے۔چنانچہ جو کھانے والے کو جو مل جاتے ہیں، گندم کھانے والے کو گندم مل جاتی ہے اور باجرا کھانے والے کو باجر امل جاتا ہے۔غرض شہر میں ہر شخص کی ضرورت کے مطابق سامان مہیا ہوتے ہیں۔پھر گوشت ہے انسانی فطرت جس طرح گوشت کو چاہتی ہے اور گوشت کی جن اقسام کو چاہتی ہے اُس کے لیے بھی ساتھیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔جہاں جہاں بھی انسان رہا ہے اور وہاں تمدن رہا ہے وہ پکا کر کھانے کا عادی رہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں کچا گوشت کھانے والے بھی ملتے ہیں لیکن جہاں پکا کر کھانے والے چلے گئے ہیں وہاں کچا گوشت کھانے والے بھی پکا کر کھانے لگ گئے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ کچا کھانے والے کہیں گئے ہوں تو وہاں پکا کر کھانے والے بھی کچا گوشت کھانے لگ گئے ہوں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پکا کر کھانا فطرتی چیز ہے اور جو چیز طبیعت کے اندر داخل ہوتی ہے وہی غالب ہوتی ہے۔اگر کچا کھانا اصل فطرتی چیز ہوتا تو چاہیے تھا کہ جہاں حبشی یا کسی اور غیر متمدن قوم کا کوئی فرد آ جاتا وہاں سارے لوگ ہنڈ یار کا نا چھوڑ دیتے اور کچا گوشت کھانے لگ جاتے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ہاں! یہ ضرور ہوتا ہے کہ جہاں پکا کر کھانے والے چلے جاتے ہیں وہاں کچا کھانے والے بھی پکا کر کھانے لگ جاتے ہیں۔امریکہ، آسٹریلیا کے پرانے لوگ کچے کھانے کھاتے تھے لیکن جب پکا کر کھانے والے وہاں گئے تو اب وہی لوگ زردہ، پلا ؤ، ٹوسٹ اور ڈبل روٹی کھانے لگ گئے ہیں۔یہ نظارہ کہیں نہیں دیکھا گیا کہ ٹوسٹ اور ڈبل روٹی کھانے والوں نے کیڑے مکوڑے اور کچا گوشت کھانا