خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 186

1951ء 186 (26 خطبات محمود اسلام نے شہریت کے جو اصول مقرر کیے ہیں ان کی پابندی کو اپنا شعار بناؤ (فرموده 9 نومبر 1951 ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو مدنی الطبع پیدا کیا ہے اور انسانیت کی بنیاد مدنیت پر رکھی گئی ہے۔ انسان خواہ گاؤں میں رہے ، قصبات میں رہے یا بڑے بڑے شہروں میں رہے وہ اکٹھا رہے گا اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے رہے گا ۔ اس کی ترقی کا انحصار ہمیشہ مدنیت پر ہے۔ قرآن کریم میں انسانِ اول کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ جس جگہ رہے گا وہاں کی یہ خصوصیت ہو گی کہ نہ وہ بھوکا رہے گا اور نہ ننگا رہے گا ۔ 1 اس کے عام معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ وہاں اُسے کپڑا روٹی ملتی رہے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انسان بھو کا بھی رہتا ہے اور ننگا بھی رہتا ہے۔ دنیا میں ہم ہزاروں ہزار واقعات فاقہ کشی کے دیکھتے ہیں، ہزاروں انسان ہمیں ننگے نظر آتے ہیں۔ پھر خدا تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا کہ انسان جہاں رہے گا وہاں رہے گا وہاں کی یہ خصوصیت ہو گی کہ نہ صوصیت ہو گی کہ نہ وہ بھوکا رہے گا اور نہ ننگا رہے گا ؟ دراصل اس کے یہ معنی نہیں کہ جہاں کہیں انسان رہے گا وہاں اس کے لیے