خطبات محمود (جلد 32) — Page 171
1951ء 171 خطبات محمود ہو گیا تو کسی شخص نے مجھ سے کہا کہ بات تو چھوٹی سی تھی مگر مباحثہ بہت لمبا ہو گیا ہے۔ میں نے کہا حضرت مرزا صاحب چاہتے تو آدھ گھنٹہ میں مباحثہ ختم کر دیتے لیکن اس طرح اسلام کے وہ کمالات اور قرآن کریم کے وہ حقائق اور معارف ظاہر نہ ہوتے جو اب ظاہر ہوئے ہیں ۔ آپ سنایا کرتے تھے کہ جب آتھم کے ساتھ مباحثہ ہوا تو دورانِ مباحثہ میں پادریوں نے کچھ ٹولے لنگڑے اور اندھے خفیہ طور پر اکٹھے کر لیے اور پھر آتھم نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسح ناصری کے متعلق آتا ہے کہ وہ اندھوں کو آنکھیں دیتے ، کوڑھیوں کو اچھا کرتے اور ٹولے لنگڑوں کو تندرست کر دیتے تھے۔ آپ کا بھی مسیح ناصری کے مثیل ہونے کا دعوی ہے اس لیے آئے اور معجزہ دکھائیے ۔ اندھے اور لولے لنگڑے یہاں موجود ہیں۔ آپ ان کو اچھا کر کے دکھا دیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہم اُس وقت حیران تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کا کیا جواب دیں گے۔ مگر جب آپ کی باری آئی تو آپ نے نہایت اطمینان سے فرمایا کہ میرا یہ عقیدہ نہیں کہ حضرت مسیح ناصری ظاہری اندھوں اور ظاہری ٹولے لنگڑوں یا ظاہری کوڑھیوں کو اچھا کیا کرتے تھے بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ سب معجزات روحانی رنگ میں ظاہر ہوتے تھے۔ یعنی آپ روحانی کوڑھیوں اور روحانی اندھوں اور روحانی بہروں کو اچھا کیا کرتے تھے۔ لیکن آپ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جسمانی اندھوں اور جسمانی لولوں لنگڑوں کو آنکھیں اور ہاتھ پاؤں دیتے تھے اور ظاہری کوڑھیوں کو اچھا کیا کرتے تھے۔ دوسری طرف انجیل میں وہیں حضرت مسیح ناصری کا یہ قول نظر آتا ہے کہ اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو گا تو جیسے معجزات مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں ویسے ہی معجزات تم بھی دکھا سکتے ہو ۔ 3 انجیل کے اس معیار کے مطابق ہم نے یہ آزمائش کرنی تھی کہ آیا آپ لوگوں میں اتنا ایمان بھی موجود ہے یا نہیں؟ سو ہم آپ کے بہت ممنون ہیں کہ آپ اندھے، لولے لنگڑے اکٹھے کر کے لے آئے ہیں۔ اگر آپ لوگوں میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے تو آئیے اور حضرت مسیح ناصری کی سنت پر ان اندھوں اور لنگڑوں وغیرہ کو اچھا کر دیجیے۔ آپ نے جب یہ جواب دیا تو عیسائی ان اندھوں اور ٹولوں لنگڑوں کو کھینچ کھینچ کر باہر لے گئے اور جب آپ کی تقریر ختم ہوئی تو وہ سب غائب تھے۔ پس حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انوار اسی شخص کو ملتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے۔ پس میں نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ روحانیت کی طرف توجہ کریں اور سمجھ لیں