خطبات محمود (جلد 32) — Page 168
1951ء 168 خطبات محمود کہ چاند تک چلا جائے۔ گویا انسان منہ سے تو نہیں لیکن اپنے عمل سے یہ ضرور کہتا ہے کہ وہ ساری کائنات پر حکمران ہے۔ پس ہمیں سوچنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ جیسی ہستی نے اتنا بڑا انسان کیوں پیدا کیا؟ رف تو انسان عالم کی وسعت کا اندازہ لگا کر حیران ہوتا ہے اور دوسری طرف اُس کے اس * جو اُمنگیں اور ارادے اور حوصلے ہیں وہ اتنے بڑے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اصل وجو دو ہی ہے اور باقی سب چیزیں اس کے تابع ہیں۔ وہ صرف اس کے علم کو زیادہ کرنے اور اسے آرام پہنچانے کے لیے ہیں۔ اور قرآن کریم میں بھی یہی لکھا ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ پس جب یہ تمام دنیا انسان کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہے تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا خدا تعالیٰ نے ہمیں صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ ہم زمین سے چاندی نکالیں یا سونا نکالیں یا لوہا نکالیں یا دوسری دھاتیں جو اب ستانوے قرار دی جاتی ہیں زمین سے نکالیں؟ یہ چیزیں تو پہلے سے ہی موجود تھیں ۔ پھر خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان کو کیوں پیدا کیا؟ ایک ہی چیز ہے جو سمجھ میں آ سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے تا وہ اُس کے جلال اور جمال کو محسوس کرے ۔ لیکن یہ چیز ہماری سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس لیے پیدا کیا ہو کہ ہم زمین سے لوہا نکالیں۔ لوہا تو خدا تعالیٰ نے انسان کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اُس کے لیے آسائش یا غفلت کا سامان تو ہو سکتا ہے لیکن اس کی وجہ پیدائش نہیں ہو سکتی ۔ انسان کی وجہ پیدائش یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرے۔ چنانچہ جب بھی کوئی رسول دنیا میں آتا ہے اس کے آنے کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا جائے۔ جو مذاہب دنیا سے قریباً مٹ چکے ہیں اُن کے متعلق بھی جہاں تک تاریخ سے مدد ملتی ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے پر زور دیا۔ اور جو مذاہب موجود ہیں اور اُن کا بھی یہ دعوی ہے اور اسلام بھی اسی مقصد کے لیے دنیا میں آیا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ اس کے ماننے والوں میں آہستہ آہستہ کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہونی شروع ہوگئیں اور وہ خدا تعالیٰ سے منقطع ہو گئے۔ لیکن ایک ایسی جماعت جو اس بات کی مدعی ہے کہ وہ لوگوں کی غفلتوں کو دور کرنے اور روحانیت کو دنیا میں نئے سرے سے قائم کرنے کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔ اگر اس کے افراد بھی اپنی پیدائش کی غرض کو نہ سمجھیں تو یہ کیسی افسوس کی بات ہوگی ۔ اگر انسان کے اندر کوئی ایسی چیز