خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 167

$1951 167 خطبات محمود بلکہ اسے اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک سے تعلق پیدا کرے اور تمام چیزوں کو اپنا نیا خادم سمجھے۔مگر باوجود اس کے کہ دنیا انسان کے لیے خادم کی حیثیت رکھتی ہے اور اصل چیز خدا تعالیٰ کا کی وجود ہے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ اپنی تمام عمر اس کے حصول کے لیے صرف کرتے ہیں۔وہ یہ نہیں جانتے کہ اُن کا اس دنیا میں بھیجا جانا کسی خاص مقصد کے ماتحت تھا اور یہ دنیا محض ان کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی تھی۔پھر جس دنیا کے حصول کے لیے وہ رات دن کوشاں رہتے ہیں وہ اپنی ذات میں اتنی بڑی ہے کہ ساری عمر کی تگ و دو کے باوجود بھی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اُس پر حاوی ہو چکا ہے۔یہ میرے ہوش کے زمانہ کی بات ہے کہ سائنسدانوں نے کہا کہ وسعت عالم کا اندازہ چھ ہزار سالوں کے برابر ہے۔روشنی کی رفتار ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ اسی ہزار میل ہوتی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک لاکھ اسی ہزار کو ساٹھ سے ضرب دی جائے تا کہ ایک منٹ کی رفتار کا اندازہ ہو سکے۔پھر حاصل جواب کو دوبارہ ساٹھ سے ضرب دی جائے تا کہ ایک گھنٹہ کی رفتار کا اندازہ ہو سکے۔پھر چو ہمیں سے ضرب دی جائے تا کہ ایک دن کی رفتار کا اندازہ ہو سکے اور پھر حاصل جواب کو چھ ہزار سے ضرب دی جائے تب اس عالم کی وسعت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ہماری یہ دنیا تمام عالم کے مقابلہ میں اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتی جتنی ہماری دنیا کے مقابلہ میں ایک چھوٹی سی پہاڑی کی حیثیت ہوتی ہے۔لیکن اب نئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وسعت عالم کا یہ اندازہ کہ وہ روشنی کے ہزار سالوں کے برابر ہے بالکل غلط ہے۔وسعتِ عالم روشنی کے چھتیس ہزار سالوں کے برابر ہے۔گویا پہلے اندازہ سے چھ گنا زیادہ ہو گیا۔پھر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دنیا پھیلتی چلی جارہی ہے اور آخر ایک دن پھیلتے پھیلتے تباہ ہو جائے گی۔اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا پھیلنے کے بعد پھر سمٹے گی اور سمٹ کر تباہ ہو جائے گی۔گویا کوئی تو قیامت کو اس کے پھیلاؤ کے ساتھ وابستہ قرار دیتا ہے اور کوئی اس کے سمٹنے کے ساتھ وابستہ کرتا ہے۔غرض یہ دنیا جو اتنی وسیع ہے ہمیں سوچنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اس میں انسان کو کیوں پیدا کیا ہے؟ پھر انسان کو جو طاقت حاصل ہے، جس طرح کی معلومات اسے حاصل ہیں، مادہ کی جو کیفیتیں اسے معلوم ہیں، علیم، سائنس ، علم کیمیا، علم طبقات الارض اور باقی علوم کو جس رنگ میں وہ حاصل کر رہا ہے اُن کی بناء پر خود بھی اپنے آپ کو دنیا کا حاکم سمجھتا ہے بلکہ اب تو انسان اس کوشش میں۔