خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 166

1951ء 166 24 خطبات محمود اپنی پیدائش کی اصل غرض کو سمجھو اور اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرو فرموده 12 اکتوبر 1951 ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” دنیا میں بعض چیزیں اصلی اور حقیقی ہوتی ہیں اور بعض صرف تابع اور خادم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اصلی اور حقیقی چیزوں کو اپنے سامنے رکھنا اور تابع حیثیت رکھنے والی چیزوں کو اپنا اصل مقصود قرار نہ دینا ایک مومن کی علامت ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ اس اصل کو اپنے سامنے رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر اور لوگ اپنی عملی زندگی میں حقیقی اہمیت رکھنے والی چیزوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور تابع حیثیت رکھنے والی چیزوں کو اختیار کر لیتے ہیں۔ مثلاً ہر شخص اس بات کو جانتا ہے کہ دنیا خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا اپنا اصل مقصد قرار دیتے مگر وہ خدا تعالیٰ سے تو تعلق پیدا نہیں کرتے اور دنیا کے حصول کے لیے جو ایک مادی چیز ہے ہر وقت جہدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ زمین سے سونا نکالے یا زمین سے چاندی نکالے یا زمین سے ہیرے جواہرات نکالے اور پھر اسی کام میں منہمک ہو جائے