خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 121

$1951 121 خطبات محمود پاک ہو جائیں گے۔جسم کی صفائی کے ساتھ دل کی صفائی لازمی نہیں۔ممکن ہے جسم کی صفائی کے ساتھ دل صاف ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ صاف نہ ہو۔اگر جسم کی صفائی کے ساتھ دل صاف ہو جاتا ہے تو یہ ایک اتفاقی امر ہے ورنہ دل کی صفائی اور جسم کی صفائی آپس میں لازم ملزوم نہیں۔ہاں ! اس سے یہ استدلال ضرور ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام نظاموں میں ایک چیز کو قلب کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور دوسری چیزوں کو جوارح کی۔اس سے جہاں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جسمانی صفائی دل کی صفائی پر منحصر ہے وہاں یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ دنیا کے تمام نظاموں میں جس چیز کو دل کی حیثیت حاصل ہوگی باقی۔چیزوں کی صفائی اُس کی صفائی پر منحصر ہوگی۔ہماری جماعت بھی ایک نظام کے ماتحت ہے۔وہ بھی ایک جسم انسانی کے مشابہ ہے۔جن چیزوں میں نظام ہوتا ہے وہ ایک دوسرے کا اثر قبول کرتی ہیں۔لیکن جن چیزوں میں نظام نہیں ہوتا وہ ان ایک دوسرے کا اثر قبول نہیں کرتیں۔مثلاً ایک دیوار ہے دوسری دیوار اس سے سو گز یا ڈیڑھ سو گز کے فاصلہ پر ہے۔اب اگر ایک دیوار گر جائے یا اُسے کوئی صدمہ پہنچے تو دوسری کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔لیکن اگر دونوں دیواریں ایک مکان کا حصہ ہوں تو ایک کے گرنے سے دوسری کو صدمہ پہنچے گا ، مکان بیکار ہو جائے گا اور وہ نئے سرے سے بنانا پڑے گا۔غرض جو چیزیں نظام سے وابستہ ہوتی ہیں اُن کا ایک قلب ہوتا ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح انسانی جسم میں ایک قلب ہوتا ہے۔جب انسانی جسم میں اس کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے قلب کی ضرورت ہے تو جہاں اس قسم کی دوسری چیزیں پائی جائیں گی وہاں بھی یہی قانون جاری ہو جائے گا اور جو چیز بھی انسانی جسم کے مشابہ ہوگی وہاں یہ اصول جاری ہو جائے گا۔مثلاً یہی مثال لے لو کہ ایک شخص کافر ہو گیا ہے۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتا۔وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا تسلیم کرتا ہے۔ایسے شخص کے متعلق قرآن کریم میں جو احکام ملتے ہیں اُس سے ملتے جلتے شخص پر بھی وہی احکام لگیں گے۔یہ نہیں کہ وہ احکام صرف ایک عیسائی یا صرف ایک یہودی کے لیے ہیں بلکہ جو بھی ایک عیسائی یا یہودی کی طرح اعمال کرے گا اُس پر وہی احکام جاری ہوں گے۔مثلاً مجوسی ہیں اُن پر بھی عیسائیوں اور یہودیوں والے احکام جاری ہوں گے۔چنانچہ مجوسیوں کے متعلق حضرت عمرؓ کے زمانہ میں صحابہ نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ اُن سے وہی سلوک کیا جائے گا