خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 105

$1951 105 خطبات محمود آ رہی ہیں۔رمضان کے یہ ایام ایسے شدید گرم تھے اور غالباً تین سال تک اور شدید گرم رہیں گے کہ ان دنوں کے روزے مومنوں کے لیے ایک آزمائش اور امتحان تھے۔لیکن دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی جی نہیں جو اس آزمائش اور امتحان کے دور میں سے شوق سے گزر جاتے ہیں اور یہ تکلیف اُن کے لیے راحت کا موجب ہو جاتی ہے۔اور اگر واقع میں انسان کا دل کسی چیز کے شوق میں ہو تو اردگرد کی تکالیف اُسے زیادہ سخت معلوم نہیں ہوتیں۔مجھے یاد ہے اس سے پہلی گرمیوں میں جو رمضان کے مہینے آئے تھے اُس وقت بعض مہینوں میں میں درس قرآن بھی دیتا تھا اور روزے بھی رکھتا تھا۔اور آجکل کے درس القرآن کی طرح وہ صرف گھنٹہ دو گھنٹے کے لیے نہیں ہوتا تھا بلکہ بعض دفعہ چھ چھ سات سات گھنٹے تک چلا جاتا تھا لیکن باوجود بیماری کے چونکہ جوانی کی عمر تھی اس لیے یہ تکلیف ایسی زیادہ محسوس نہیں ہوتی تھی۔پھر خالی یہی نہیں کہ میں درس دیتا تھا بلکہ درس کی تیاری کے لیے بعض دفعہ رات کے بارہ ایک بجے تک میں نوٹ لکھتا رہتا ہے تھا اور صبح اٹھ کر درس شروع کر دیتا تھا جو ظہر تک چلا جاتا تھا۔بلکہ چند دن مجھے ایسے بھی یاد ہیں جب صبح سے ظہر تک درس ختم نہ ہوا تو ظہر کے بعد پھر درس شروع کر دیا گیا جو عصر تک چلا گیا۔مگر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شریعت کی اجازتوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔مثلاً وہ کہتے ہیں ہم بیمار ہیں اس لیے روزہ نہیں رکھ سکتے لیکن اُن کی بیماری کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ سارا سال انہوں نے علاج نہیں کروایا ہوتا۔اگر واقع میں وہ بیمار ہوتے تو علاج کیوں نہ کرواتے؟ اُن کا باقاعدہ علاج نہ کرانا بتاتا ہے کہ اُن کی بیماری کاغذ رمحض جھوٹا ہے۔علاج کے لیے تو انہیں بیماری یاد نہیں آتی لیکن روزہ رکھنا ہو تو بیماری یاد آ جاتی ہے۔ایسے لوگوں کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے غیر معقول عذروں سے وہ اس جہان کی گرمی میں تو روزے رکھنے سے بچ جائیں گے لیکن اگلے جہان میں وہ کیا کریں گے اور اُس کی گرمی اور سے کیسے بچ سکیں گے؟ مجھے افسوس ہے کہ بعض ایسے خاندانوں کے لڑکے بھی جن کو دوسروں کے لیے نمونہ ہونا چاہیے تھا محض بہانہ سازی سے روزوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہماری شریعت نے یقیناً بیمار کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ہمارا غیر احمدیوں کی طرح یہ اعتقاد نہیں کہ روزہ کسی حالت میں بھی ترک نہیں کرنا چاہیے مگر ہم بیماری اُس کو کہیں گے جس کو انسان اچھا کرنے کی کوشش کرے۔اگر سالہا سال بیماری شکتی چلی جاتی ہے اور وہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں کرتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ