خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 86

خطبات محمود 86 $1951 اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی خدمت کرنے والے کھاتے بھی ہیں، پیتے بھی ہیں ، وہ چی کپڑوں اور مکان کے محتاج بھی ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھاتے تھے، پیتے بھی تھے، کپڑے بھی پہنتے تھے اور مکان میں بھی رہتے تھے۔قرآن کریم میں کفار کا یہ اعتراض درج ہے کہ یہ کیسا نبی آ گیا؟ یہ تو ہماری طرح بازار میں چلتا پھرتا ہے، کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے۔1 اب اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حوائج انسانی سے مستعفی نہیں تھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک عام دنیا دار میں کیا فرق ہے؟ وہ فرق صرف یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے لیے زندہ رہتے تھے۔کھانا، پینا، کپڑا پہنا درمیانی شغل تھا۔لیکن ایک دنیا دار دنیا میں صرف کھانے پینے کے لیے زندہ رہتا ہے۔ہاں! کبھی کبھی خدا تعالیٰ کا بھی ذکر کر لیتا ہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو آپ نے ان چیزوں کا انکار کیا ہے، انہیں دھتکارا اور ردّ کیا ہے۔آپ نے یہ نہیں کہا کہ مجھے پچاس روپے کی ضرورت ہے مجھے مہیا کر کے دو۔اور اگر تم مجھے پچاس روپے نہیں دیتے تو تم جہنم میں جاؤ میں تمہیں قرآن نہیں پڑھا تا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے فاقے بھی دیئے، آپ کے رستے بھی روکے، آپ کو اور آپ کے متبعین کو مارا پیٹا بھی ، آپ کی ہتک بھی کی اور آپ کے عزیزوں اور پیاروں کو دُکھ بھی دیئے لیکن آپ نے فرمایا تم جو چاہو کرو میں نے یہ کام کرنا ہے۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھاتے ہیں اور اس کے بدلہ کا ذکر نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ تم نہیں دیتے تو نہ دو۔لیکن ایک دنیا دار کہتا ہے کہ تم دو گے کیا ؟ اگر وہ اسے کچھ نہیں دیتے تو وہ کہتا ہے میں نے کیا بھوکا مرنا ہے؟ میں کوئی اور کام تلاش کر لیتا ہوں۔تم نے کی اگر قرآن پڑھنا ہے تو میرے گزارے کا بھی انتظام کر دو۔گویا ایک مولوی بھی قرآن پڑھاتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قرآن پڑھاتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک عام مولوی میں یہ فرق ہے کہ مولوی کہتا ہے میرا چالیس روپے ماہوار میں گزارہ نہیں ہوتا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم چالیس روپے مجھ سے لے لو، مجھے گالیاں دے لو میں نے تو اپنا کام کرنا ہے۔بظاہر یہ معمولی فرق ہے لیکن اس کے نتیجہ میں ایک رسول بن جاتا ہے اور ایک مولوی۔اور ایک رسول اور ایک مولوی میں جو فرق ہے تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔انسان یہ تو اندازہ لگا سکتا ہے کہ دُور کا ایک ستارہ جو سورج سے بھی ہزاروں میلوں کے فاصلہ پر ہے وہ زمین -