خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 66

$1951 66 خطبات محمود رہتی ہے۔پھر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی عورت کے ماں باپ اُس سے بے وفائی کر جاتے ہیں لیکن اُس کا خاوند اس کے لیے قربانی کر جاتا ہے۔اور بعض دفعہ خاوند بے وفائی کرتا ہے اور ماں باپ قربانی کی کرتے ہیں۔لیکن تعلق باللہ میں یہ شرط ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ سے زیادہ کسی اور چیز سے محبت نہ ہو۔اگر خدا تعالیٰ کی محبت سے کسی اور چیز کی محبت کا ٹکراؤ ہو جائے تو وہ خدا تعالیٰ کو ترجیح دے دے۔حضرت علی سے ایک دفعہ حضرت حسنؓ نے پوچھا کہ آپ توحید پر پوری طرح قائم ہیں یا نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں میں توحید پر قائم ہوں۔حضرت حسنؓ نے پھر سوال کیا ، کیا آپ کو مجھ سے بھی محبت ہے؟ حضرت علی نے فرمایا ہاں مجھے تم سے محبت ہے۔حضرت حسنؓ نے کہا آپ کو اللہ تعالیٰ سے بھی محبت ہے اور مجھ سے بھی محبت ہے تو آپ نے مجھے خدا تعالیٰ کے برابر قرار دیا یہ تو شرک ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا صرف محبت کا ہونا شرک نہیں بلکہ اس کے درجہ میں فرق ہونا شرک ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ سے بھی محبت ہے اور تم سے بھی لیکن جب تمہاری محبت خدا تعالیٰ کی محبت سے ٹکرائے گی تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا اور خدا تعالیٰ کو ترجیح دوں گا۔غرض تعلق باللہ میں صرف اتنی شرط ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت دوسری محبتوں سے زائد ہو۔ویسے ہوتی وہ محبت ہی ہے کوئی علیحدہ چیز نہیں ہوتی۔میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں بتایا تھا کہ جو طریقے محبت کے انسانوں کے لیے مقرر ہیں وہی خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے والے ہیں۔جس طرح باپ سے محبت کی جاتی ہے، جس طرح بھائی بھائی میں محبت ہوتی ہے، جس طرح بھائی بہن یا بہن بہن میں محبت پیدا ہوتی ہے، جس طرح ماں بیٹا یا ماں بیٹی میں محبت پیدا ہوتی ہے، جس طرح باپ بیٹا یا باپ بیٹی میں محبت پیدا ہوتی ہے، جس طرح بیوی اور خاوند یا اور رشتہ داروں کی محبت پیدا ہوتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے۔اس کی محبت کے نئے گر تلاش کرنا حماقت ہے۔جب روحانیت، محبت اور تعلق باللہ ایک ہی ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کی محبت بھی وہی ہے جو انسانوں کی ہوتی ہے تو اس کے گر بھی ایک ہی ہونے چاہیں۔اور انسانوں کی محبت کا گر یہی ہوتا ہے کہ یا احسان سے محبت پیدا ہوتی ہے یا حسن سے محبت پیدا ہوتی ہے اور یا پھر لمبے تعلق سے محبت پیدا ہوتی ہے۔محبت کو پیدا کرنے کے یہی تین گر ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلى حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ إِلَيْهَا - 1 انسان کے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ مادہ رکھ دیا ہے کہ جو شخص اس پر احسان کرتا ہے اس سے محبت کرتا ہے۔