خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 53

$1951 53 خطبات محمود ڈھا کہ یا چٹا گانگ میں نہیں ہوگی۔مرکز بہر حال کسی چھوٹی جگہ یا کسی جنگل میں بنے گا جہاں ہم اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے ، چلتے پھرتے اپنے آپ کو ایک خاص ماحول میں اور ایک خاص پروگرام کے ماتحت رکھ سکیں۔اور ایسی جگہ لاہور میں نہیں ہو سکتی ، لندن میں نہیں ہو سکتی ، واشنگٹن میں نہیں ہو سکتی ، نیو یارک میں نہیں ہو سکتی، بلکہ وہیں ہو سکتی ہے جہاں اپنا ماحول بناناممکن ہو، اپنے سکول ہوں اور اپنی اکثریت ہو اور یہ ہمیں بنے بنائے شہروں میں حاصل نہیں ہوسکتی۔سب انبیاء کے زمانوں میں یہی طریق اختیار کیا گیا ہے۔مکہ کو دیکھ لو خدا تعالیٰ نے مکہ والوں پر احسان کیا کہ اُس نے ان میں اپنا عظیم الشان رسول بھیج دیا لیکن وہ بھی کوئی بڑا شہر نہ تھا محض ایک قصبہ تھا لیکن کئی سال تک انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔اس پر خدا تعالیٰ نے اسے مدینہ بھیج دیا جو ایک چھوٹی سی جگہ تھی جہاں خدا تعالیٰ نے جلد ہی ایک دینی ماحول پیدا کر دیا اور اس کے ماننے والوں کو غلبہ دیا۔جب مدینہ میں دین پھیل گیا تو اس کی کے بعد آہستہ آہستہ مکہ والوں نے بھی اسلام قبول کر لیا لیکن یہ اُسی وقت ہوا جب مدینہ مرکز بنا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک مکہ میں رہے اُس وقت تک مکہ والوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔پس مرکز یا تو کسی نئی جگہ بنے گا یا کسی گاؤں یا چھوٹے قصبہ میں بنے گا جہاں جماعت جلد از جلد پھیل جائے اور اسے ایک دینی ماحول میسر آ جائے۔یہ بات میں نے اس لیے بتائی ہے کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ آخر ایک نئی جگہ بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔جس شہر میں بھی مرکزی دفاتر ہوتے وہی ہمارا مرکز ہوتا۔میں نے بتایا ہے کہ یہ بات غلط ہے۔مرکز اُسی مقام کو کہتے ہیں جہاں کسی جماعت کی اکثریت ہو اور جہاں کا ماحول اس کا اپنا ہو۔اگر کسی مقام کو یہ خصوصیت حاصل نہیں تو وہ مرکز نہیں۔اس کی مثال سمندر میں ایک کارک کی سی ہے۔لاہور میں ایک اسکول کیا ہم دس اسکول بنالیں سینکڑوں مبلغ تیار کر لیں لیکن وہ لاہور کی آبادی کا ایک حصہ ہی ہوں گے۔لاہور دس لاکھ کی آبادی کا شہر ہے۔وہاں درجنوں سکول ہیں۔اگر وہاں ہم ایک کی بجائے دس اسکول بھی بنالیں تب بھی وہ شہر کا ایک حصہ ہی ہوں گے، ایک کالج کی بجائے چار کالج بھی بنالیں تب بھی وہ شہر کا ایک حصہ ہی ہوں گے۔لیکن ان سے چوتھا حصہ تعلیمی ادارے بنا کر ہم ربوہ کو مرکز بنا سکتے ہیں جہاں ہمارا اپنا ماحول ہوگا، اپنی اکثریت ہوگی اور جہاں ہمیشہ ذکر الہی ہوگا ، قرآن کریم کا درس ہوگا، مسجد میں ہم خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرسکیں گے، اسلام کا ہمیں صحیح مفہوم حاصل