خطبات محمود (جلد 32) — Page 242
$1951 242 خطبات محمود پی رہے ہوں گے جس میں شراب کی تمام لذتیں ہوں گی صرف نشہ نہیں ہو گا۔حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام نے اس نقشہ کو بھی اڑا دیا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ جنت میں بھی انسان کو کام کرنا ہی پڑے گا۔فرق صرف یہ ہے کہ دنیا میں انسان گر سکتا ہے لیکن جنت میں انسان گرے گا نہیں۔جنتی محنت ہے بھی کریں گے ، اعمال بھی بجالائیں گے۔فرق صرف اتنا ہے کہ وہ ترقی کرتے جائیں گے، گریں گے نہیں۔ان کا خوف جاتا رہے گا اور کچھ نہیں۔6 اور جب جنت میں بھی کام کرنا پڑتا ہے تو یہ دنیا تو دار العمل ہے پھر یہاں دس پندرہ سال کام کرنے کے بعد آرام کا خیال بھی کیسے آ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو فرمایا ہے انسان کو جنت میں بھی آرام نہیں ملے گا۔جولوگ بیکاری کو اچھا خیال کرتے ہیں اُن میں سے کوئی دس دن کے لیے اس کا تجربہ تو کرے۔وہ چارپائی پر لیٹا ر ہے، لوگ اُس کے پاؤں دبائیں اور کھانے کو حلوہ ، پلاؤ اور تنجن 7 دیں۔ہم دیکھیں گے کہ وہ دس دن کے بعد ہی بھاگ جاتا ہے یا نہیں۔بریکاری سے زیادہ تکلیف دہ چیز دنیا میں اور کوئی نہیں۔ہمیشہ کا آرام بھی بُرا ہوتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ کوئی امیر لڑکا تھا۔اُس کے پاس لاکھوں روپیہ تھا۔وہ بیمار تھا۔میں اُسے دیکھنے کے لیے گیا۔اُس کے مصاحب اُس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے۔قیمتی کپڑے کے تھان ان کے آگے پڑے ہوئے تھے اور وہ انہیں پھاڑ پھاڑ کر پھینک رہے تھے۔میں نے کہا یہ کیا پاگل پن ہے؟ اتنا قیمتی کپڑا ہے اور تم پھاڑ پھاڑ کر پھینک رہے ہو۔اُس نے کہا بیکار بیٹھے بیٹھے میری طبیعت گھبرا گئی تھی۔ایک دن میں بازار سے گزرا۔ایک دکاندار کپڑا پھاڑ رہا تھا۔مجھے آواز اچھی لگی اس لیے میں نے یہ شغل اختیار کر لیا ہے۔میں کپڑا منگوالیتا ہوں اور اُس کو پھاڑنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اُس سے لذت اٹھاتا ہوں۔آب بظاہر یہ امیری ہے لیکن یہ کتنا بڑا عذاب ہے۔ایک بچہ بھی اسے دیکھے گا تو پاگل پن کہے گا۔اگر اپنے گھر کو آگ لگانا عذاب نہیں تو پھر قیمتی تھانوں کو پھاڑ نا بھی عذاب نہیں۔بات صرف یہ تھی کہ اُس سے بیکار بیٹھا نہیں جاتا تھا اور ہم دیکھتے ہیں کہ امراء میں سے جو لوگ بیکار ہوتے ہیں وہ اپنا سارا وقت شطرنج، گنجفہ 8 اور چوسر 9 کھیلنے میں ضائع کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اُن کے زندگی گزارنے کا ذریعہ ہے۔بہر حال ہمیں کوئی نہ کوئی کام کرنا پڑے گا خواہ دین کا ہو یا دنیا کا۔کیا تم نے