خطبات محمود (جلد 32) — Page 238
$1951 238 خطبات محمود عبادت کرنے کا موقع ملنا اور خدا تعالیٰ کے کلام کا لمبا ہو جانا اُن کے لئے زیادہ عزت کی بات تھی اور یہ ایک انعام تھا جو خدا تعالیٰ نے اُن پر کیا اور انعام میں زیادتی وعدہ خلافی نہیں ہوتی۔میں نے اُس دن بتایا تھا کہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں قربانیاں کرنا مومن کے لیے ایک اعزاز ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ اسے اپنے انعامات کا وارث بناتا ہے اور اس میں زیادتی کرنا وعدہ خلافی نہیں ہوتا۔لیکن سنت اللہ یہ ہے کہ وہ کمزوریوں کا خیال رکھتا ہے اور وہ یکدم حقیقت نہیں کھولتا۔جوں جوں لوگوں کے ذوق و شوق میں ترقی ہوتی جاتی ہے توں توں وہ حقیقت کھولتا جاتا ہے۔جب میں نے تحریک جدید کا اجرا کیا تھا اس وقت مجھ پر بھی حقیقت نہیں کھلی تھی۔میں نے تین سال کا اعلان کیا پھر تم پر بھی حقیقت نہیں کھلی۔اس لیے جن لوگوں کے اندر بشاشت پائی جاتی تھی وہ تو تین سال کی قربانی کے لیے تیار ہو گئے اور باقی پیچھے رہ گئے۔پھر اس تحریک کو تین سال سے دس سال تک بڑھا دیا گیا تو جن میں بشاشت پائی جاتی تھی وہ قربانی کے لیے تیار ہو گئے اور باقی پیچھے رہ گئے۔پھر اس تحریک کو انیس سال کے لیے بڑھا دیا گیا تو ایک حصہ جماعت کا قربانی کے لیے تیار ہو گیا اور باقی حصہ پیچھے رہ گیا۔حقیقت یہ ہے کہ مجھ پر بھی یہ راز اُس وقت نہیں کھلا تھا اس لیے میں نے ایک محدود عرصہ کے لیے جماعت سے قربانی کا مطالبہ کیا۔یہ تحریک تبلیغ اسلام کے لیے جاری کی گئی تھی۔اب کیا کوئی ہے جو کہے کہ تبلیغ اسلام صرف تین سال کے لیے ہونی چاہیے یا تبلیغ اسلام صرف دس سال کے لیے ہونی چاہیے یا تبلیغ اسلام صرف انیس سال کے لیے ہونی چاہیے؟ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کے متعلق آ۔ہے کہ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكرِيْنَ۔4 اگر میں اُس وقت یہ اعلان کرتا کہ تم دائگی قربانی کے لیے تیار ہو جاؤ تو آپ لوگوں کو پتا ہے وہ وقت ایسا تھا جب صدرانجمن احمد یہ دیوالیہ ہو رہی تھی اور سلسلہ نہایت تنگی کی حالت میں سے گزر رہا تھا۔بعض محکمے توڑے جا رہے تھے اور کارکنوں کی تنخواہیں کم کی جا رہی تھیں۔اُس وقت میں نے تجویز کیا کہ جماعت تین سال کے لیے خاص رنگ میں مالی قربانی کرے۔یہ عجیب لطیفہ ہے کہ اکثر لوگوں نے اُس وقت اس تحریک کو صرف ایک سال کے لیے ہی سمجھا تھا اور جب میں نے خطبہ جمعہ دیکھا تو واقع میں اس میں بہت سے الفاظ ایسے تھے جن سے ایک سال ہی نکلتا تھا۔گو ایسے الفاظ بھی تھے جن سے زیادہ عرصہ نکلتا تھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے خیال کر لیا