خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 195

$1951 195 خطبات محمود کرتا ہے تو اس طرح جیسے کتے سے سلوک کیا جاتا ہے۔اس لیے ہم فرانسیسیوں کو ہی پسند کرتے ہیں انگریزوں کو نہیں۔انگریز مہربان تو ہوتے ہیں لیکن اُن کے اندر یہ جذ بہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ اوروں سے بالا ہیں لیکن فرانسیسی ظلم بھی کریں گے تو اس طرح جس طرح ایک بھائی بھائی پر کرتا ہے۔بہر حال ہر ایک قوم کے الگ الگ اخلاق ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ اسلام اُن کا پابند ہو۔فرانسیسیوں کے الگ اخلاق ہیں، امریکہ والوں کے الگ اخلاق ہیں، انگریزوں کے الگ اخلاق ہیں ہم ان کے پابند نہیں۔اسلام نے خود تمدن کے بعض اصول مقرر فرمائے ہیں اور ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم ان اصولوں کی پابندی اختیار کریں۔احمدی جب اسٹیشن پر جائیں قطار میں کھڑے ہو کر ٹکٹ لیں، جب ریل میں بیٹھیں سمٹ کر بیٹھیں اور نئے آنے والوں کو جگہ دیں، جب ضرورت پڑے ہر احمدی میں یہ خصوصیت ہونی چاہیے کہ وہ دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہو جائے۔اسی طرح شہروں میں صفائی کا خیال رکھا جائے اور کوئی کام ایسا نہ کیا جائے جس سے دوسروں کو تکلیف محسوس ہو۔ربوہ کو ہی لے لو۔ربوہ میں جہاں کہیں گند ہوا سے دور کرو۔یا اگر طاقت ہے تو دوسروں سے صفائی کرواؤ۔لیکن یہ نہیں ہونا چاہیے کہ گند گھر سے نکال کر باہر گلی میں پھینک دیا جائے۔میں نے ربوہ میں چلتے پھرتے دیکھا ہے کہ ادھر ادھر پاخانہ پھرا ہوا ہو گا جو جوتی سے لگ جاتا ہے۔یا اگر کسی نے ا مرغی کھائی ہے تو اُس کی انتڑیاں باہر پھینک دی جاتی ہیں اور وہ جوتی کے ساتھ چپک جاتی ہیں اور دور تک ساتھ گھسٹتی جاتی ہیں۔شہر میں رہتے ہوئے ہر اُس فعل سے اجتناب کرنا چاہیے جو دوسرے کے لیے ضرر رساں ہو۔انسان جو چیز بھی استعمال کرے اُس کے متعلق سوچ لے کہ اس سے دوسرے کو تکلیف تو نہیں ہوتی۔مثلا کوئلہ ہے شہری آبادی میں پتھر کا کوئلہ جلانا نہایت مضر ہے۔اس سے نمونیا اور کھانسی پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح گلے میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انڈسٹریل ایریا شہر کے ایک طرف رکھا جاتا ہے۔یہ ایسی خصوصیات ہیں کہ اگر کسی میں پائی جائیں تو خوامخواہ لوگ سوال کریں گے کہ یہ کون لوگ ہیں۔اگر تم ریل میں بیٹھے ہو اور نئے آنے والوں کو جگہ مہیا کرتے ہو، خود تکلیف برداشت کرتے ہو اور دوسرے کو تکلیف میں نہیں رہنے دیتے تو لوگ پوچھیں گے تم کون ہو؟ اور جب تم کہو گے کہ میں احمدی ہوں تو خواہ کسی کو احمدیوں سے واسطہ پڑا ہو یا نہیں ہر کوئی یہ کہے گا کہ میں نے پہلے بھی سنا ہے کہ احمدی لوگ با اخلاق ہوتے ہیں۔اور ڈبہ کے لوگ بجائے مخالفت