خطبات محمود (جلد 32) — Page 192
$1951 192 خطبات محمود میں نے کہا اسی 4 تمیں ہندے آں۔اُس نے سمجھا میں چوڑھا ہوں اور بھرشٹ ہونے کے ڈر سے اُس نے میرے لیے جگہ چھوڑ دی حالانکہ میں نے سَیدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمُ 5 کے مطابق کیا تھا کہ ہمارا کام خدمت کرنا ہے آگے کوئی جو چاہے اس کے معنے کرے ہم بہر حال خادم ہی ہیں۔غرض ہمارے ملک میں یہ فخر سمجھتا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو زک پہنچائی جائے حالانکہ مدنیت اس کی اجازت نہیں دیتی۔جب لوگ ٹکٹ لے رہے ہوتے ہیں تو ہر ایک دوسرے کو کندھا مار رہا ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے کی جگہ لے لے۔میں نے یورپ میں دیکھا ہے کہ ایسی جگہ پر بھی جہاں اطمینان کا سوال پیدا نہیں ہوتا یعنی شرابیوں میں بھی یہ نظارہ دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اور باری باری آتے ہیں اور شراب لیتے ہیں۔ان میں عورتیں بھی ہوتی ہیں اور مرد بھی ہوتے ہیں لیکن ہر ایک اپنی باری کے انتظار میں کھڑا رہتا ہے۔بعض دفعہ سوسو کی کی قطاریں ہوتی ہیں۔بعض دفعہ جب قطار اتنی لمبی ہو جاتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اس سے رستہ کو نقصان پہنچے گا تو وہ دوسری قطار بنا لیتے ہیں، پھر تیسری قطار بنا لیتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوگا کہ دوسری یا تیسری قطار میں سے کوئی آدمی شراب لے لے۔پہلی قطار شراب لے لے گی تو دوسری قطار کا پہلا آدمی آگے بڑھے گا۔اسی طرح جب تک دوسری قطار ساری کی ساری شراب نہ لے لے گی تیسری قطار کا پہلا آدمی آگے نہیں بڑھے گا۔یہ اُن کا تمدن ہے۔بیشک وہ عیسائی ہیں لیکن یہ چیزیں انہوں نے اسلام سے لی ہیں۔در اصل انسان مدنی الطبع ہے کے معنے ہی یہی ہیں کہ ہمیں ایک دوسرے کا لحاظ کرنا ہوگا۔اگر ہم ایک دوسرے کا لحاظ نہیں کرتے تو ہم مدنیت کو قائم نہیں رکھ سکتے۔جس چیز کو مدنیت کے خلاف سمجھا جاتا ہے ہمارے ملک میں لوگ اُس کا نام چالا کی رکھ لیتے ہیں۔گویا انہیں دوسرے کا حق مارنے میں مزا آتا ہے۔اسی طرح شہر کے رہائشی حصوں میں گند پھینکنا بھی مدنیت کے خلاف ہے۔گو اس میں بہت سا دخل اس بات کا بھی ہے کہ ہمارے ملک میں گندگی کا معیار بہت گرا ہوا ہے، ہماری عورتوں میں صفائی کا احساس بہت کم پایا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ بات نہیں تھی۔جہاں اس بات کے متعلق بھی سوال کیا جاتا تھا کہ حائضہ حیض کی جگہ کس طرح دھوئے؟ وہاں صفائی کا معیار