خطبات محمود (جلد 32) — Page 182
$1951 182 خطبات محمود جنہیں وہاں نبی کہا جاتا تھا اور پاکستان میں خان لیاقت علی خان کو مارا جاتا ہے جن کو ملک کی آزادی کو برقرار رکھنے والا اور اس کو ترقی دینے والا کہا جاتا ہے۔یہ حض مولویوں کی ذمہ داری ہے۔یہ کھیل ہے جو وہ ہمارے ساتھ کھیل رہے تھے۔لیکن حکومت نے ان کو منع نہ کیا۔جس کی وجہ سے یہ گند زیادہ پھیل گیا۔تم اگر کسی کو کہتے ہو کہ فلاں کو مار دو۔مثلاً بچے ہیں ، ماں باپ یا بہن بھائی کھیل کے طور پر بعض دفعہ انہیں سکھاتے ہیں کہ فلاں کو مارو تو وہ مارتے ہیں اور ماں باپ، بہن بھائی اس پر ہنستے ہیں۔دوسرے دن وہ بچے ماں باپ کے منہ پر تھپڑ مارتے ہیں اور اُس وقت روکنا کوئی معنے نہیں رکھتا۔ایک دفعہ اگر تم انہیں کہو گے کہ فلاں کو مارو تو وہ پھر دوسروں کو ماریں گے اور تم روک نہیں سکو گے۔پس میں حکومت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ افراد کی ذہنیت کو بدلے ورنہ امن قائم کرنا مشکل ہو جائے گا۔لیڈر مرتے جائیں گے اور نئے لوگوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔پھر مولویوں اور دوسرے لوگوں کی جانیں بھی محفوظ نہیں ہوں گی۔روس میں دیکھ لو۔زار نے جو طریق رعایا سے اختیار کیا تھا وہی ریق رعایا نے اُس کے خلاف چلایا۔پس یہ کھیل محدود نہیں چلے گا۔ہمارے خلاف یہ کھیل کھیلا گیا تھا لیکن آخر پاکستان کے نہایت اہم اور ابتدائی لیڈر کے خلاف ایک بد باطن نے وہی حربہ چلا دیا کیونکہ دلوں سے قانون کے ادب اور سوچنے اور نفس پر قابو پانے کا جذ بہ مٹادیا گیا تھا۔اگر یہ بات جاری رہی تو ایک دن یہ مولوی خود بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔خود انہی کے متعلق کسی بات پر خفا ہو کر ان پر بھی حملے کریں گے۔میری عمر کوئی دس گیارہ برس کی ہوگی کہ میں امرتسر گیا اور دیکھا کہ ایک مولوی صاحب بڑی داڑھی والے، بجبہ پہنے ہوئے اور ہاتھ میں عصا لیے جا رہے تھے۔اُن کے پیچھے پیچھے ایک اور آدمی تھا جو ہاتھ جوڑتا اور اُن کی منتیں کرتا جارہا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ میں مفلس و غریب ہوں ، میری حالت پر رحم کھائیں۔اور مولوی صاحب پیچھے مُڑ کر اُسے گھورتے اور کبھی کبھی گالی بھی دے دیتے تھے۔جس مولوی صاحب دور نکل گئے تو میں نے اُس شخص سے پوچھا کیا بات ہے؟ اُس نے بتایا کہ میں نے اس خبیث کے پاس ایک سور و پیر رکھوایا تھا۔اب واپس مانگتا ہوں لیکن یہ واپس نہیں دیتا۔سو مولویوں میں حرام خور بھی ہیں، ظالم بھی ہیں اور ان میں دوسرے عیوب بھی پائے جاتے ہیں۔اس لیے اگر انہوں نے ایسی تعلیم دی تو ایک نہ ایک دن ان پر بھی وار ہوگا کیونکہ ہونہیں سکتا کہ ان سے کسی اور کو