خطبات محمود (جلد 32) — Page 124
$1951 124 خطبات محمود کیونکہ جہاں تک ہندوؤں اور عیسائیوں کا تعلق ہے وہ ہمیں ویسے ہی مسلمان سمجھتے ہیں جیسے دوسرے مسلمانوں کو۔اس لیے یہ شور مچانا محض احمقانہ بات ہے اور یا پھر اس بات کی علامت ہے کہ ان کی ہمتیں ٹوٹ چکی ہیں اور ان کے ارادے پست ہو چکے ہیں۔اس لیے وہ اپنی آبائی عزت کو واپس لینا نہیں چاہتے۔یا یہ بات محض دشمنی کی وجہ سے ہے کیونکہ انسان عداوت کی وجہ سے ایسی باتیں بھی کر لیتا ہے بلکہ عداوت میں آکر وہ اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کو گالیاں بھی دے لیتا ہے۔پس جب تک ربوہ میں خلافت ہے اسے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور یہ اہمیت ساری دنیا پر اثر انداز ہو گی۔پھر جب قادیان واپس مل جائے گا تب بھی یہ مرکز رہے گا کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ کے حضور بے شمار دعائیں کی گئی ہیں۔مگر اُس وقت یہ اپنے علاقہ کا مرکز ہو جائے گا اور اس کی وہ حیثیت نہیں رہے گی جو اب ہے۔گزشتہ سترہ سال سے میں نے تحریک جدید کو جاری کیا ہے اور سب سے پہلے میں نے قادیان کے لوگوں کو مخاطب کیا تھا اور اب میرے سامنے ربوہ کے لوگ بیٹھے ہیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چند سالوں سے جماعت کی تحریک جدید کی طرف وہ توجہ نہیں رہی جو پہلے تھی حالانکہ کام پہلے سے بیسیوں گنے بڑھ گیا ہے۔مبلغوں کی تعداد جو اب ہے اس سے پہلے اس کا بیسواں حصہ بھی نہیں تھی ، جماعت کی جو تنظیم اب ہے اس سے پہلے اس کا بیسواں حصہ بھی نہیں تھی۔إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ - بعض جگہوں پر جماعت کم ہو گئی ہے ورنہ عام طور پر جماعت بڑھی ہے لیکن ابھی تک ہماری تبلیغ اتنی بھی نہیں جتنا آٹے میں نمک ہوتا ہے۔اس وقت ہمارا مخاطب طبقہ دس پندرہ لاکھ کی تعداد میں ہے اور دنیا کی تعداد اڑھائی ارب ہے۔ہم نے تو اس تعداد کو دس کروڑ بنانا ہے اور پھر اڑھائی ارب لیکن ہم ابھی سے سو گئے ہیں۔جو تعداد ہماری مخاطب ہے وہ اڑھائی ارب میں اڑھائی ہزارواں حصہ بھی نہیں۔اتنا حصہ نمک اگر آٹے میں ڈال دیا جائے تو اس کا پتا بھی نہیں لگے گا۔مثلاً آدھ سیر آٹا ہو تو آدھ سیر میں چالیس تو لے ہوتے ہیں۔اور چالیس تولے میں چار سواتی ماشے ہوتے ہیں۔اور چارسوائی میں اڑ میں سو چالیس رتیاں ہوتی ہیں۔گویا ہم اگر دنیا کی آبادی کے لحاظ سے اپنی تبلیغ کا اندازہ لگائیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح آدھ سیر آٹے میں رتی یا ڈیڑھ رتی نمک ڈالا جائے۔