خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 113

$1951 113 خطبات محمود وہاں وہ ہمارے زخموں کو بھی ہرا کر دیتی ہیں۔یہ ہمیں اسلام کے وہ شاندار ایام یاد دلاتی ہیں جب وہ ساری دنیا پر قابض تھا۔جب ایک اکیلا مسلمان دنیا کی حکومتوں اور اس کی سیاسیات پر بھاری تھا۔جب کسی مسلمان کو چھیڑ نا یا اُسے دق کرنا خواہ وہ دنیا کے ایک دور کنارے پر ہو ایسا ہی تھا جیسے ایک نہتہ انسان شیر کی کچھار میں منہ ڈال دے۔لیکن آج مسلمان کی عزت اور اس کا ناموس ایک فٹبال کی طرح ہے جو چاہتا ہے اسے ٹھڈ امار دیتا ہے اور جہاں چاہے اسے پھینک دیتا ہے۔بدقسمتی سے مسلمانوں نے اس کا یہ علاج سمجھ رکھا ہے کہ وہ سیاسی طور پر منظم ہو جائیں اور وہ یہ عظیم الشان نکتہ بھول گئے ہیں کہ اسلام کو عزت اور تقویت سیاسی تنظیم سے نہیں بلکہ روحانیت اور محبت الہی سے ملی تھی۔جس نسخہ کو وہ ایک دفعہ آزما چکا تھا اس کا کام تھا کہ وہ دوبارہ اُسی کو آزما تا لیکن وہ سارے نسخے استعمال کرتا ہے اور وہی نسخہ استعمال نہیں کرتا جس کو وہ پہلے آزما چکا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک جاہل سے جاہل عورت ، ایک جاہل سے جاہل زمیندار جس کو نہ طب سے کوئی واسطہ ہوتا ہے اور نہ ڈاکٹری کا علم ہوتا اُس کو کبھی کھانسی کی ہوئی ہوتی ہے اور کسی واقف یا حکیم کا کوئی نسخہ اُس نے استعمال کیا ہوتا ہے جس سے اُسے آرام آ گیا، اُس کو کبھی بخار آ جاتا ہے یا دست آنے شروع ہو جاتے ہیں اور وہ کسی کا بتایا ہوا نسخہ استعمال کرتا ہے اور وہ اسے فائدہ دے دیتا ہے تو جب وہ کوئی ویسا ہی مریض دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک بڑا ماہر طبیب اور قابل ڈاکٹر سمجھ کر اور ویسی ہی شکل بنا کر سر ہلاتا ہے اور کہتا ہے مجھ سے پوچھو۔اسے لسوڑھیاں، ملٹھی اور بنفشہ ابال کر پلاؤ یا چرائتا 1 کا پانی ابال کر رکھ لو اور اسے تھوڑا تھوڑا پلا دیا کرو۔پہلے نسخہ سے کھانسی دور ہو جائے گی اور دوسرے نسخہ سے بخار اتر جائے گا۔اسی طرح خواہ ایک ماہر طبیب علاج کر رہا ہوا ایک بڑھیا کہے گی میری سنو! اسے فلاں چیز دوا سے فورا آرام آ جائے گا۔اس میں راز صرف یہی ہوتا ہے کہ دس بارہ سال پہلے اُس نے وہ نسخہ استعمال کیا تھا اور اُسے آرام آ گیا تھا۔وہ اپنے تجربہ کی بناء پر جب کوئی ویساہی مریض دیکھتی ہے تو وہ نسخہ لے کر بیٹھ جاتی ہے اور کہتی ہے یہ ڈاکٹر جاہل ہیں ، فضول ہیں۔انہیں کیا آتا ہے؟ تم میری سنو اور اسے لسوڑھیاں، ملٹھی اور بنفشہ ابال کر دو سے آرام آجائے گا۔وہ بڑھیا اپنے ایک دفعہ کے آزمائے ہوئے نسخہ کو جو ایک حقیر آزمائش ہوتی ہے اور ایک فرد کی آزمائش ہوتی ہے اور پھر وہ ایک ایسے امر کے متعلق ہوتی ہے جس میں اتفاقی طور پر بھی مریض کثرت سے اچھے ہوتے ہیں اتنی اہمیت دے دیتی ہے۔اطباء کا خیال ہے کہ ستر فیصدی امراض